برتھ، ڈیتھ و میرج سرٹیفکیٹس کا آن لائن نظام، سپیڈ منی سے رفتار ورنہ شہری خوار

ملتان (وقائع نگار)ڈیجیٹلائزیشن یا نئی خواری؟ یونین کونسلوں کے سرٹیفکیٹس پر ڈسٹرکٹ سطح کی منظوری نے سوالات اٹھا دیئے۔برتھ، ڈیتھ اور میرج سرٹیفکیٹس کی
آن لائن منظوری میں مبینہ تاخیر، شہری کئی کئی ہفتے خوار سیکرٹریز نے سرٹیفکیٹ کے ریٹ بڑھا دیئے ۔پنجاب میں عوام کو تیز رفتار اور شفاف سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے جاری ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کے باوجود پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس کے حصول کے حوالے سے شہریوں کی مشکلات ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔شہریوں اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ یونین کونسل کی سطح پر درخواست اور ڈیٹا انٹری کے بعد بعض کیسز کی آن لائن منظوری ڈسٹرکٹ سطح پر متعلقہ لوکل گورنمنٹ افسر کے پورٹل سے مشروط ہونے کے باعث سرٹیفکیٹس کے اجراء میں غیرضروری تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔پنجاب لوکل گورنمنٹ کے سرکاری FAQ کے مطابق پیدائش کی رجسٹریشن متعلقہ یونین کونسل میں کی جاتی ہےجبکہ کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ کے اجراء کا عمل بھی یونین کونسل سے منسلک ہے۔ اسی طرح کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ متعلقہ یونین کونسل یا میونسپل کمیٹی جبکہ کمپیوٹرائزڈ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ متعلقہ یونین کونسل یا میونسپل کمیٹی جاری کرتی ہے۔متاثرہ شہریوں کے مطابق بعض یونین کونسلوں میں متعلقہ اہلکار درخواست گزار کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں درج کرنے کے بعد یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ سرٹیفکیٹ فوری طور پر پرنٹ نہیں کیا جا سکتا بلکہ فائل کو ڈسٹرکٹ سطح پر آن لائن منظوری کے لیے بھیجا گیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں یونین کونسل سے معاملہ نمٹنے کے بجائے انہیں ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کے دفتر سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک عام شہری کو اپنی معمولی نوعیت کی دستاویز کے لیے متعدد سرکاری دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔خصوصاً برتھ سرٹیفکیٹ کا بروقت حصول ان خاندانوں کے لیے اہم ہے جنہیں بعد ازاں شناختی دستاویزات، تعلیمی داخلے یا دیگر سرکاری معاملات کے لیے پیدائش کا ریکارڈ درکار ہوتا ہے۔ نادرا نے بھی اپریل 2026 میں پنجاب کے لیے برتن،ڈیتھ،میری اور طلاق کی گائیڈ لائن جاری کیا ہے، جو اس ریکارڈ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔شہریوں کی جانب سے یہ بھی شکایات سامنے آئی ہیں کہ بعض درخواستیں کئی دنوں تک آن لائن پورٹل پر زیرِ التوا رہتی ہیں۔ بعض متاثرین کے مطابق انہیں 20، 30 دن یا اس سے بھی زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔اس معاملے میں سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ بعض شہریوں سے مبینہ طور پر ’’فوری منظوری‘‘ کے عوض غیرقانونی رقم طلب کی جاتی ہے اور ادائیگی کرنے والے کیسز کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ بغیر سفارش یا غیرقانونی ادائیگی کے درخواستیں اعتراضات یا تاخیر کا شکار رہتی ہیں۔کچھ شکایات میں مبینہ طور پر 3 سے 5 ہزار روپے تک ’’سپیڈ منی‘‘ لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔شکایات میں ایک اور اہم دعویٰ یہ سامنے آیا ہے کہ بعض ڈسٹرکٹ دفاتر میں افسران کے سرکاری لاگ اِن یا پاس ورڈز مبینہ طور پر ماتحت عملے یا آپریٹرز کے استعمال میں ہیں۔اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ صرف تاخیر یا شہری سہولت تک محدود نہیں رہتا بلکہ سسٹم سکیورٹی، ذمہ داری کے تعین، آڈٹ ٹریل اور سرکاری اکاؤنٹس کے تحفظ کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ڈیجیٹل نظام کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ شہری کو دفتر کے چکروں سے نجات ملے، نہ کہ ایک دفتر سے دوسرے دفتر بھیجا جائے۔اس تناظر میں شہری حلقوں نے تجویز دی ہے کہ اگر کسی درخواست پر مقررہ مدت، مثلاً تین یا پانچ ورکنگ دن، میں کوئی اعتراض یا فیصلہ نہ کیا جائے تو سسٹم میں خودکار طور پر اعلیٰ سطح پر الرٹ پیدا ہو، متعلقہ افسر سے وضاحت طلب کی جائے اور پینڈنگ درخواستوں کی نگرانی ایک مرکزی ڈیش بورڈ کے ذریعے کی جائے۔پنجاب لوکل گورنمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق پیدائش کی عام رجسٹریشن کے لیے تین ورکنگ دن، تاخیر سے رجسٹریشن کے لیے مخصوص مدت اور سات سال سے زیادہ عمر کی رجسٹریشن کے لیے 20 ورکنگ دن تک کی مدت درج ہے۔دوسری جانب محکمہ نے 2025 کے Birth and Death Rules اور بعد ازاں 2 ستمبر 2026 کی ترمیم بھی اپنی ویب سائٹ پر درج کی ہے۔ اس لیے موجودہ طریقہ کار اور حالیہ ترامیم کی روشنی میں یہ جاننا ضروری ہے کہ ڈسٹرکٹ سطح کی آن لائن منظوری کس قانونی، انتظامی یا محکمانہ نوٹیفکیشن کے تحت لازمی قرار دی گئی ہے اور اس کے لیے مقررہ ٹائم لائن کیا ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ نظام آن لائن ہے یا آف لائن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام شہری کو واقعی سہولت دے رہا ہےاور اگر نہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں