آئیے قارئین، اب کالموں کی اقساط کے سلسلے کے آخری اور تیسرے حصے میں ایران اور پاکستان کے درمیان 1947 سے لے کر آج تک کے تعلقات کو جانچتے ہیں۔ 1947 کے تھوڑا عرصہ بعد ہی پاکستان امریکی کیمپ میں شامل ہو گیا تھا۔ ایران اور ترکی بھی امریکا کے ساتھ ہی تھے لہٰذا بغداد پیکٹ اور آر سی ڈی معاہدے وجود میں آئے ۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ایرانی قوم تہذیبی، تمدنی اور علمی طور پر شاندار ماضی کی آمین ہے۔ یہاں پر فردوسی، عمر خیام اور حافظ جیسے فارسی کے شاعر پیدا ہوئے ۔پاکستان بننے سے پہلے ایران اور ہندوستان کے درمیان ثقافتی، تجارتی اور علمی رشتے بہت مضبوط تھے۔ پاکستان بننے کے بعد ایران ہمارا ہمسایہ بنا۔ پاکستان کو اقوام متحدہ میں شروع ہی سے ایران نے تسلیم کیا لیکن ایران کے بھارت کے ساتھ بھی تعلقات بہت اچھے رہے۔ پاکستان اور شہنشاہ ایران کے درمیان پہلا مسئلہ گوادر بندرگاہ کا ہوا جو کہ قدرتی طور پر پاکستان کا حصہ تھی مگر خان آف قلات نے تحفے کے طور پر عمان سے ملک بدر کئے گئے شہزادے کو عطا کر دی تھی۔ اس شہزادے کی عمان واپسی کے بعد بھی گوادر سلطنت عمان کا حصہ رہا حالانکہ اس کا زمینی رابطہ پاکستان کے ساتھ تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی اسٹریلوی بیوی غالبا ًجس کا نام مہر النساء تھا، کی سفارتی کوششوں سے کچھ رقم کی ادائیگی کے بعد گوادر پاکستان کو مل گیا اور شہنشاہ ایران باوجود کوشش کے گوادر بندرگاہ کو حاصل کرنے میں ناکام رہے مگر اس کے باوجود ایوب خان کے دور میں پاکستان اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات رہے تاہم مبینہ طور پر کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ 1965 کی جنگ میں ایران نے بھارت کو لڑاکا طیاروں میں ایندھن بھرنے کی سہولت دی تھی۔ اس کے علاوہ ایران اور پاکستان کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر سرحد کو ایوب دور میں باقاعدہ سیدھا کیا گیا تو مبینہ طور پر الزام لگایا جاتا ہے جس کی مصدقہ ذرائع تصدیق نہیں کرتے، کہ پاکستان تقریبا ًدو لاکھ ایکڑ رقبے سے فارغ ہو گیا ایران سے کچھ رقبہ پاکستان کو بھی ملا تھا۔ اسی دور میں ہمیں یہ کہانیاں بھی سنائی جاتی تھی کہ ایران پاکستان کی حدود سے بلوچستان کے علاقے میں تیل نکالنے کے خلاف ہے کیونکہ پاکستان سے ایران کی طرف تیل تیل کا بھاؤ ہو رہا ہے جو کہ بعد میں غلط ثابت ہوئیں کیونکہ تیل سیال بہنے والا مادہ نہیں ہوتا بلکہ گارے کی طرح ہوتا ہے۔ ایران اور موجودہ پاکستان کے درمیان ہزاروں سالوں سے رشتے موجود ہیں ۔ہندوستان پر ایک ہزار سالہ مسلمانوں کی حکمرانی کے دوران فارسی زبان اور ایرانی تہذیب نے جو اثر ڈالا وہ عربی زبان اور تہذیب سے بہت زیادہ ہے۔
فارسی تو باقاعدہ ہندوستان کی سرکاری زبان رہی یہاں تک کہ رنجیت سنگھ کے دور میں پنجاب کی سرکاری زبان بھی فارسی ہی تھی اور یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ رنجیت سنگھ کے دور میں پنجاب کی آبادی 85 فیصد پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل تھی یہ علیحدہ کہانی ہے کہ پڑھے لکھے پنجاب کو انگریز نے کس طرح انپڑھ بنایا جبکہ پنجابی اور خاص کر مسلمانوں میں سے پنجابی قوم پرستی کے جذبے کو ختم کیا جب میں نے تقریباً 1965 میں ہوش سنبھالا تو ہمارے ہاں شیعہ سنی کا کسی بھی قسم کا کوئی اختلافی مسئلہ نہیں تھا۔ ہم بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ محرم میں اہل تشیع کے تعزیوں اور مجالس میں جایا کرتے تھے ۔گھروں میں ان دنوں میں شاہ نامہ اسلام خواتین پڑھا کرتی تھیں۔ میری نانی مجھے امام حسین اور مولا علی شیر خدا کی بہادری کے قصے سنایا کرتی تھیں۔ محرم کے دنوں میں گھر میں اناج جس میں گندم، باجرہ ،جوار اور تمام دالیں جو بازار میں ملتی تھیں انہیں ملا کر رگڑ کر ایک ہانڈی تیار کی جاتی تھی جسے نانی اماں کوٹا کہتی تھیں اور بتایا کرتی تھی کہ کربلا میں جب پانی کے ساتھ کھانے کا سامان بھی ختم ہو گیا تھا اور بچے کھانا مانگنے لگے تو بی بی زینب نے ایک بڑے برتن میں پتھر ڈال کر چمچہ چلانا شروع کر دیا ۔جب بچے کھانا مانگنے لگے تو بی بی زینب نے جب ڈھکن اٹھایا تو اللہ کی مہربانی سے جو کھانا ملا وہ یہی کوٹا تھا ۔محرم کے علاوہ یہ کبھی نہیں بتایا جاتا تھا بعد میں اس کا نام حلیم سنا۔ جس میں گوشت کے علاوہ کافی لوازمات ہوتے ہیں ۔ایک اور قصہ بھی میری نانی اماں سنایا کرتی تھی کہ حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد حضرت علی کے ایک بیٹے نے جو کہ حضرت علی کی بیوی (دیو ،پر ی اور شہزادوں کی کہانیاں بھی ہوتی تھیں) کے بطن سے پیدا ہوا تھا، نے امام حسین کے تمام قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا بعد میں اس ہستی کا نام مختار سقفی بتایا جانے لگا۔میرے گھر والے سنی بریلوی عقیدہ رکھتے تھے۔
ایک دفعہ 1987 میں محرم کے دوران میری ڈیوٹی لگی تو اس وقت ملتان سے شیعہ اور سنی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے 122 تعزیے نکلا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے 87 سنی مکتبہ فکر کے لوگوں کے تھے جن میں استاد و شاگرد کے مشہور تعزیے بھی تھے۔ استاد شاگرد کے تعزیہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے میری ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ اب تو حالات برے ہیں پہلے ہمیں اس سے کافی مالی فائدہ ہوتا تھا کیونکہ عورتیں امام حسین کی محبت میں زیور تک نچھاور کر دیتی تھیں اور مرد بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر رقوم خرچ کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اب تو تعزیہ اٹھانے کے لیے بندوں کے پیسے بھی بمشکل پورے ہوتے ہیں تو میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ کسی بھی فرقے یا مذہب سے اکثر رہنماوں کے مادی مفادات بھی جڑے ہوتے ہیں۔ میرے آبائی قصبہ روہیلانوالی میں امام بارگاہ جو کہ ہندوں کے جانے کے بعد ہندو اوقاف کی زمین پر بنائی گئی تھی اب کروڑوں روپے کی دکانیں بنانے والوں کے بیٹوں کے تصرف میں ہیں اور وہی سے منافہ کما رہے ہیں۔ اسی طرح دیوبندیوں کی ایک مسجد اور بریلیوں کی عید گاہ بھی کمائی کا ذریعہ بن گئی ہیں۔
اسی طرح بزرگوں سے سنتے تھے تقسیم ہند سے پہلے مسلمانوں، سکھوں اور ہندوں کے درمیان بھائی چارے کا ماحول تھا۔ مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دور حکومت میں تمام مذاہب کے لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ رواداری اور محبت کے رشتے بنا لیے تھے مگر پھر انگریز دور میں انگریزوں کی مشہور زمانہ پالیسی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو” کے تحت ہندو لوک سبھا اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے ذریعے ایسے جھوٹے قصے بنائے گئے کہ مسلمان بادشاہوں نے ہندووں کو زبردستی مسلمان بنایا حالانکہ 1857 میں جب دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو دہلی میں مسلمانوں کی تعداد 30 فیصد تھی۔ میں پھر بھٹک گیا۔۔۔( جاری ہے)







