وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، نسلیں جوان ہو جاتی ہیں مگر تاریخ کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کیلنڈر کے بدلنے سے نہیں بھرتے۔ مشرقی پنجاب بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں 1984ء کا آپریشن بلیو سٹار، اندرا گاندھی کا قتل، سکھ مخالف فسادات، ایک دہائی پر محیط شورش، ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات اور جسونت سنگھ کھالڑا جیسے کردار آج بھی اجتماعی حافظے کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ستلج‘‘ جیسی ایک فلم صرف فلم نہیں رہتی بلکہ وہ ایک پورے عہد کی یادداشت بن جاتی ہے۔بھارت آج یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خالصتان تحریک اب ملک کے اندر ایک مؤثر عوامی تحریک نہیں رہی۔ بھارتی حکومت کے مطابق 1990ء کی دہائی کے وسط تک مشرقی پنجاب میں عسکریت پسندی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا، ریاستی رٹ بحال ہوئی، سرمایہ کاری واپس آئی اور مشرقی پنجاب معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ یہی مؤقف بھارت عالمی سطح پر بھی پیش کرتا ہے کہ موجودہ خالصتان تحریک کا زیادہ تر مرکز بیرونِ ملک موجود چند تنظیمیں اور سرگرم کارکن ہیں۔
دوسری طرف خالصتان کے حامی اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ ختم نہیں ہوا بلکہ دب گیا ہے۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ سکھ شناخت، مذہبی آزادی، 1984ء کے فسادات کے متاثرین کو انصاف، آپریشن بلیو سٹار کی یاد اور جسونت سنگھ کھالڑا جیسے واقعات آج بھی سکھ نوجوانوں میں سوالات پیدا کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ محض ایک علیحدگی پسند تحریک نہیں بلکہ سیاسی، مذہبی اور تاریخی شناخت کا معاملہ بھی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں خالصتان کا موضوع ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں ہوالیکن اس مرتبہ میدان مشرقی پنجاب نہیں بلکہ بیرونِ ملک تھا۔ کینیڈا، برطانیہ، امریکا، آسٹریلیا اور یورپ میں آباد بڑی سکھ برادری کے بعض حلقوں نے ریفرنڈم مہمات، احتجاجی ریلیوں اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے اس مطالبے کو زندہ رکھا۔ اگرچہ ان ریفرنڈمز کو کسی ریاست یا بین الاقوامی ادارے نے قانونی حیثیت نہیں د لیکن انہوں نے سیاسی اور سفارتی بحث ضرور پیدا کی۔
بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بعض بیرونِ ملک سرگرم تنظیمیں انتہاپسندی کو فروغ دیتی ہیں اور ان کی سرگرمیوں سے بھارت کی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر بھارت نے متعدد افراد اور تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا، انٹرپول اور مختلف ممالک سے تعاون طلب کیا اور کئی حوالگی کی درخواستیں بھی دیں۔ادھر کینیڈا، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک عمومی طور پر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ جب تک کوئی سرگرمی ان کے ملکی قوانین کے مطابق پرامن اور قانونی دائرے میں ہو، اظہارِ رائے اور احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہی اختلاف گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں بھی نمایاں نظر آیا، خصوصاً 2023ء میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہوئی۔ کینیڈا نے بھارتی اہلکاروں پر الزامات عائد کیے جبکہ بھارت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا۔ اس تنازع نے یہ واضح کر دیا کہ خالصتان کا مسئلہ اب صرف بھارتی پنجاب تک محدود نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کا حصہ بھی بن چکا ہے۔
پاکستان کا نام بھی اکثر اس بحث میں شامل کیا جاتا ہے۔ بھارت طویل عرصے سے یہ الزام لگاتا آیا ہے کہ پاکستان بعض خالصتان حامی عناصر کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان الزامات اور جوابی مؤقف پر بحث جاری رہتی ہے۔
اس پوری تاریخ کا شاید سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہر فریق اپنے زخم گنواتا ہے مگر دوسرے کے زخم سننے پر آمادہ نہیں ہوتا۔بھارتی ریاست دہشت گردی میں مارے گئے پولیس اہلکاروں، فوجیوں، سرکاری ملازمین اور عام شہریوں کو یاد کرتی ہے۔سکھ برادری کا ایک بڑا طبقہ آپریشن بلیو سٹار، 1984ء کے فسادات، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو یاد کرتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں قانون کی حکمرانی اور ریاستی احتساب کی بات کرتی ہیں۔سیاست دان اپنے اپنے بیانیے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور تاریخ… وہ خاموش کھڑی سب کچھ دیکھتی رہتی ہے۔
بالی ووڈ فلم’’ستلج‘‘ کی اصل طاقت بھی شاید یہی ہے کہ یہ کسی سیاسی منشور سے زیادہ ایک سوال بن کر سامنے آتی ہے۔ فلم دیکھنے والا چاہے کسی بھی نظریے سے تعلق رکھتا ہو وہ آخر میں یہ ضرور سوچتا ہے کہ اگر ریاست طاقت استعمال کرے تو اس کی حدود کیا ہونی چاہئیں؟ اگر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ضروری ہو تو انسانی حقوق کیسے محفوظ رہیں؟ اور اگر انصاف میں تاخیر ہو جائے تو تاریخ اس تاخیر کو کس نام سے یاد رکھتی ہے؟جن قوموں نے اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھا ان کا مستقبل بھی اکثر انہی سوالوں کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہےمگر مستقل امن صرف انصاف، شفافیت، سیاسی مکالمے اور قانون کی بالادستی سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
ستلج کا پانی آج بھی بہہ رہا ہے۔اسی دریا نے تقسیمِ ہند بھی دیکھی، خالصتان تحریک بھی دیکھی، آپریشن بلیو سٹار بھی دیکھا، ہزاروں جنازے بھی دیکھے اور جسونت سنگھ کھالڑا جیسے لوگوں کی خاموش جدوجہد بھی۔دریا کبھی گواہی نہیں دیتے مگر ان کے کناروں پر لکھی تاریخ کبھی مٹتی نہیں۔شاید اسی لیے ’’ستلج‘‘صرف ایک فلم نہیںبلکہ ایک آئینہ ہےجس میں ہر شخص اپنی اپنی تاریخ، اپنا اپنا دکھ اور اپنا اپنا سچ تلاش کرتا ہے۔یہی کسی بھی بڑے فن پارے کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ فلم ختم ہو جاتی ہےمگر سوال ختم نہیں ہوتے۔







