زگ زیگ ٹیکنالوجی نظرانداز، غیرقانونی بھٹے زہریلا دھواں اگلنے لگے، شہری پریشان

راجن پور(ڈپٹی بیورو چیف) انسان نے ترقی کے نام پر ماحول کو اتنا آلودہ کر دیا ہے کہ خود انسان کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ہے۔صاف و شفاف فضا زہریلی ہو چکی ہے خوفناک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔فضا اور زمین ہر جگہ آلودگی مسائل بن کر موجود ہے مگر ہم آنکھیں بند کر کے اس ماحول میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔محکمہ ماحولیات کی ملی بھگت سے چند سالوں کے اندر بغیر این سی او کے سینکڑوں غیر قانونی بھٹے تعمیر کر لیے گئے ہیں جو زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر محکمہ ماحولیات کے اہلکاروں کو بھتہ دے کر چل رہے ہیں۔بھٹہ مالکان کوئلہ کی بجائے بھوسہ اور درختوں کے پتوں پر اینٹوں کو پکا کر ماحولیاتی آلودگی کو تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی آج پوری دنیا کا سب سے سنگین اور خطرناک مسئلہ ہے۔ قدرتی وسائل میں بے جا مداخلت اور انسانی غفلت کے باعث ہماری زمین، ہوا اور پانی زہریلے ہو چکے ہیں۔ضلع بھر میں بغیر این او سی کے اینٹوں کے بھٹوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔حکومت کا پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں کوزگ زیگ ٹیکنالوجی پرمنتقل کا خواب لاکھ کوششوں کےابھی تک پورانہیں ہوسکا ہے۔پنجاب حکومت نے 2017 میں پنجاب میں روایتی اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ پرمنتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور2018 کے آخرتک کی ڈیڈلائن دی گئی تھی۔ستم یہ ہے کہ محکمہ ماحولیات چند ہزار روپے منتھلیوں کے عوض نئے تعمیر ہونے والے بھٹوں کو روکنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہے۔ہر وقت کہیں نہ کہیں نئے بھٹوں کی تعمیر جاری ہے اور متعلقہ محکمے خاموش ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے پنجاب حکومت اور ڈپٹی کمشنر راجن پور سے مطالبہ کیا ہے کہ این او سی اور زیگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر بھٹوں کو فوری طور پر بند کیا جائے اور ان کی سرپرستی کرنے والے محکمہ ماحولیات کے افسران کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں