حکومت کا غیر قانونی اسلحہ، جرائم پر قابو کیلئے سخت قانون بنانے کا فیصلہ

ملتان(نمائندہ خصوصی) محکمہ قانون نے ملتان سمیت پنجاب بھر میں غیر قانونی اسلحہ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس سے پیدا ہونے والے جرائم پر قابو پانے کے لیے سخت قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے قانون کے تحت اگر کسی شخص کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا تو اسے کم از کم دس سال قید اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔محکمہ قانون کے حکام کے مطابق قانون کے نفاذ سے قبل عام شہریوں کو ایک مقررہ وقت دیا جائے گا تاکہ وہ اپنے پاس موجود غیر قانونی اسلحہ متعلقہ تھانوں یا ڈپٹی کمشنر کے دفاتر میں رضاکارانہ طور پر جمع کرا سکیں۔ اس مدت کے دوران اسلحہ جمع کرانے والوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی اور ان کا نام بھی خفیہ رکھا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد صوبے بھر میں سرچ آپریشن شروع کیے جائیں گے۔ اس دوران اگر کسی کے پاس غیر قانونی اسلحہ پایا گیا تو اس کے خلاف فوری مقدمہ درج کر کے نئے قانون کے تحت سخت سزا دی جائے گی۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔محکمہ قانون کے ترجمان نے بتایا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں استعمال ہونے والے غیر قانونی اسلحے کی روک تھام ہے۔ اس سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور معاشرے میں خوف و ہراس کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سخت سزائیں ہی غیر قانونی اسلحے کے کلچر کو ختم کر سکتی ہیں۔ شہریوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون پر عملدرآمد بلا تفریق کیا جائے تاکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔ ذرائع کے مطابق نئے قانون کا مسودہ جلد کابینہ کے اجلاس میں پیش کر کے منظوری کے بعد اسمبلی میں لایا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں