ملتان (کرائم سیل)یزمان میں اراضی کے تنازع پر ریٹائرڈ پٹواری عبدالمالک کے خلاف اختیارات کے مبینہ غلط استعمال، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور متاثرہ ورثا کو دھمکیاں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ پٹواری عبدالمالک عدالتی حکم امتناعی کے باوجود نہ صرف متنازع اراضی پر قابض ہے بلکہ دیگر افراد کو بھی مبینہ طور پر ناجائز قبضے پر اکسا رہا ہے۔متاثرین کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر یزمان کی جانب سے ریٹائرڈ پٹواری عبدالمالک کو کام سے روکنے کا حکم جاری کیا گیا تھا، تاہم الزام ہے کہ اس کے باوجود وہ مسلسل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اراضی سے متعلق معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔متاثرین کے مطابق اس تنازع میں ریٹائرڈ پٹواری عبدالمالک کے ساتھ محمد حنیف ولد محمد گلزار، محمد حنیف ولد سعید احمد، جمشید اوٹھی، عمران انجینئر، ندیم یسرا ولد عرفان، راشد ولد نور محمد، شیخ منیر، شیخ بابر اور محمد عمران سردائی والا بھی وراثتی اراضی پر قابض ہیں۔ محمد حنیف ولد محمد گلزار اور محمد حنیف ولد سعید احمد پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ایک جانب محمد رمضان کی وراثتی زمین پر قبضہ کروا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عدالت میں یہ دعویٰ دائر کر رکھا ہے کہ صدف امین، محمد امین کی بیٹی نہیں ہے۔ متاثرین کے مطابق اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کرائی جا چکی ہے۔متاثرین کا مزید کہنا ہے کہ تین مرتبہ عدالتی حکم امتناعی جاری ہونے کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر تحصیل یزمان نے مبینہ طور پر کہا کہ میں نے کسی صورت کام نہیں روکنا۔متاثرین کے مطابق اراضی کی ویڈیو بنائے جانے کے دوران ریٹائرڈ پٹواری عبدالمالک نے انہیں یہ کہتے ہوئے دھمکی دی کہ بنا لو ویڈیو، تم لوگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان اثر و رسوخ کے بل بوتے پر نہ صرف زمینوں پر غیر قانونی قبضے کر رہے ہیں بلکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ ریٹائرڈ پٹواری عبدالمالک اور اس کے ساتھیوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کی اراضی واگزار کرائی جائے۔







