بہاولپور(رپورٹ: مرزا ندیم) بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامیوالی کے تھانہ عنایتی کی حدود کے رہائشی غریب چرواہے کو مبینہ طور پر بااثر زمینداروں نے اغوا کرکے ضلع بہاولنگر کے علاقے تھانہ مروٹ کی حدود میں واقع ایک ٹوبہ پر تین روز تک باندھ کر رکھا۔ انسانیت سوز تشدد کیا، سر اور بھنویں مونڈڈالیں، نازک اعضا پر مرچیں ڈالیںاور مبینہ زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ 23 سالہ مرسلین ولد کریم بخش، جو بھیڑیں چرا کر اپنے خاندان کا گزر بسر کرتا ہے، مبینہ تشدد کے بعد نیم بے ہوشی کی حالت میں ملاجسے فوری طور پر بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت تشویشناک قرار دیتے ہوئے وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا۔متاثرہ کے بھائی محسن کے مطابق مرسلین کو مبینہ طور پر احمد علی، محمد آصف عرف مٹھو، شبیر، رضوان، بگو، ریاض اور دیگر نامعلوم افراد نے گھر سے بھیڑیں چرانے کے بہانے اپنے ساتھ لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ محسن کے مطابق جب وہ گواہان کے ہمراہ تلاش کرتے ہوئے چک نمبر 298 ایچ آر کے قریب ٹوبہ جہاں والا پہنچے تو مرسلین انتہائی تشویشناک حالت میں موجود تھا جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ مرسلین نے نیم بے ہوشی کی حالت میں بتایا کہ ملزمان نے اس کے ساتھ بدفعلی کی، اسے زہریلی شے پلائی اور ان کی 40 بھیڑیں بھی چوری کر لیں۔پولیس تھانہ مروٹ نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کارروائی کے مطابق مدعی محسن کی درخواست پر ابتدائی طور پر دفعات 375، 336 اور 379 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ متاثرہ کا میڈیکل کروانے اور مزید قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔پولیس کے مطابق متاثرہ اس وقت بیان دینے کی حالت میں نہیں، تاہم میڈیکل رپورٹ اور متاثرہ کے بیان کے بعد مقدمے میں مزید دفعات شامل کیے جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرکے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے، جبکہ پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔







