والد کے قتل کا صدمہ، انصاف کی منتظر معصوم بچی ذہنی مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گئی

کبیروالا (نامہ نگار)باپ کے قتل کا صدمہ،معصوم بچی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کافی دن سوشل میڈیا آہ و بکا کرتی رہی،مرکزی ملزمان گرفتار نہ ہونے پر بچی ذہنی مفلوج ہو گئی، علاج معالجہ کے لیے ہسپتال داخل،گھر میں کہرام،ہر آنکھ اشکبار،مقامی انتظامیہ مرکزی ملزمان گرفتار نہ کرے،آئی جی پنجاب نوٹس لے،عوامی مطالبہ۔تفصیل کے مطابق یوم عاشور دس محرام کے دن تھانہ سرائے سدھو کی حدود اولک سندھو قبرستان میں پرانی رنجش کی بنا پر رانا برادری اور قدیانہ برادری کے درمیان لڑائی جھگڑا شدت اختیار کر گیا جس پر رانا برادری کے مجاہد،مشتاق و دیگر آٹھ مسلح ساتھیوں نے پہلے قدیانہ برادری کی خواتین پر تشدد کیا اور بعد ازاں حق نواز قدیانہ کو پسٹل کے فائرنگ مار کر جان سے مار ڈالا خنجر اور سریے کے وار کرکے قدیانہ برادری کے تین افراد بھی زخمی ہوئے ،قتل ہونے والے حق نواز کی معصوم بیٹی کی آنکھوں کے سامنے ان کے باپ کو بے دردی سے قتل کیا گیا،بعد ازاں معصوم بچی مسلسل میڈیا پر اپنے والد کے ناحق خون کا انصاف مانگتی رہی اور آہ و بکا کرتی رہی لیکن مرکزی ملزمان گرفتار نہ ہو سکے،گذشتہ روز انصاف نہ ملنے پر معصوم بچی ذہنی طور پر مفلوج ہو گئی اسے ہسپتال علاج معالجہ کے لیے لایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے جواب دے دیا جب بچی کو گھر لایا گیا تو ایک مرتبہ دوبارہ پھر گھر میں کہرام مچ گیا ہر آنکھ اشکبار تھی، انتظامیہ مرکزی ملزمان تو گرفتار نہ کر سکی،عوامی و سماجی حلقوں نے آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ مقتول کی معصوم بچی اور اہل خانہ کو انصاف مہیا کیا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں