امریکی حملے تیز، ایران کا بھرپور جواب

تہران کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر جوابی میزائل و ڈرون حملوں کا دعوی، دونوں ممالک میں ہنگامی الرٹ جاری

اسلام آباد،تہران،واشنگٹن،کویت سٹی (بیورو رپورٹ، نیوزایجنسیاں) امریکا نے مسلسل دوسرے روز ایران پر بمباری کی ہے، جس میں سیریک، بندرِ لنگہ اور جزیرۂ قشم کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملے کے بعد کی گئی۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ فوج نے ایران میں 10 اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔سینٹکام نے کہا کہ ایران کو سنگاپور کے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا لیکن ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ ڈرون حملہ کر دیا، ایرانی ڈرون نے پاناما کے آئل ٹینکر کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا، جب کہ ایرانی حملے کے وقت 20 لاکھ بیرل تیل سے بھرا ٹینکر آبنائے ہرمز کے قریب تھا۔سینٹکام کے مطابق ایران کے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے جواب میں کارروائی کی گئی، جس میں ایرانی فوج کے نگرانی کے نظام، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے ڈرون اور بارودی سرنگوں کے ذخیروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے، اور امریکی افواج مکمل طور پر چوکس اور جوابی کارروائی کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔امریکی فوج کی ایران میں تازہ کارروائی،فضائی دفاع اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنایا گیا،ایران کے سیرک شہر اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ،سینٹ کام کےمطابق کارروائیاں پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر ہفتے کی صبح ہونےوالےمبینہ ایرانی ڈرون حملے کےبعد کی گئیں،دوسری جانب خطےمیں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر بحرین کی وزارت داخلہ نے ہنگامی الرٹ جاری کردیا ہے،جبکہ کئی شہروں میں سائرن بجنےکی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں،ادھرکویت نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی طیاروں نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر، ساحلی ریڈار تنصیبات اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی طیاروں نے ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں اور ساحلی ریڈار سائٹس پر حملے کیے۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہےجب ہمارے لیےمزید تحمل کا مظاہرہ کرنا ممکن نہ رہے اور ہمیں وہ فوجی کارروائی مکمل کرنی پڑےجس کا ہم نےکامیابی سےآغازکیا تھا اور اگر ایسا ہوا تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر مشترکہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق دو سے تین بجے کے درمیان بحریہ اور ایرو اسپیس فورس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کویت میں علی السالم ایئر بیس اور بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر پورٹ سلمان کو نشانہ بنایا۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں کے دوران امریکی فوج کے آٹھ اہم فوجی انفراسٹرکچر تباہ کیے گئے۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو امریکا کی حالیہ فوجی کارروائیوں کا ’فیصلہ کن جواب‘ قرار دیا۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکا نے اتوار کے روز ایران کے پانچ ساحلی مقامات پر حملے کیے تھے جو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں پر ہونے والے حالیہ امریکی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔وزارتِ خارجہ کے مطابق ’وعدہ خلافی اس حکومت کی فطرت کا حصہ ہے‘ اور حالیہ کارروائی اسی رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ایران نے اس موقع پر ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔کویت کی مسلح افواج نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے دو بیلسٹک میزائل کامیابی سے تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔وزارت دفاع کے مطابق میزائلوں کو بروقت ٹریک کرکے منظور شدہ دفاعی طریقہ کار کے تحت فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا گیا، جس کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیو جاری کر دی

تہران (نیوزایجنسیاں)ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کی علی الصبح کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کی مبینہ ویڈیو جاری کر دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے حالیہ فوجی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق ویڈیو میں پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ کی جانب سے مختلف مقامات سے بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے جاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے امریکی فوجی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے اور ان کا مقصد امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔دوسری جانب اس دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی ویڈیو یا اس میں کیے گئے تمام دعوؤں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں