امن معاہدہ ہو یا نہ ہو، اسرائیل لبنان اور شام سے نہیں نکلے گا، نیتن یاہو

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان اور شام کے ان علاقوں سے انخلا نہیں کریں گی جہاں وہ اس وقت موجود ہیں، چاہے امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی نوعیت کا امن یا جنگ بندی معاہدہ ہی کیوں نہ طے پا جائے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج ضرورت کے مطابق اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی اور سرحدی تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت اسرائیل لبنان کے تقریباً 570 مربع کلومیٹر علاقے پر قابض ہے جبکہ شام کے بعض حصوں میں بھی اس کی عسکری موجودگی برقرار ہے۔
نیتن یاہو کے اس بیان کو امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے لیے ایک اہم رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق معاہدے میں لبنان میں مکمل جنگ بندی کی شق بھی شامل ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بعض اختلافات کا اعتراف بھی کیا تاہم کہا کہ اسرائیل کی سلامتی ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی مؤقف اپنایا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان، شام اور غزہ کے بعض علاقوں سے انخلا نہیں کریں گی اور موجودگی کا مقصد اسرائیلی شہریوں کا تحفظ ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ بیانات خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور ممکنہ جنگ بندی کے امکانات پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں