لاہور: پنجاب اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی، جبکہ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی بھی دیکھنے میں آئی۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا، جبکہ اجلاس اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت ایک گھنٹہ 40 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے کیا گیا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی شریک تھیں۔
بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ’’شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو‘‘ اور ’’جعلی بجٹ نامنظور‘‘ کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن ارکان عمران خان کی رہائی کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز بھی ایوان میں ساتھ لائے۔
وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہوگئے اور احتجاجاً کاغذات پھاڑ کر ایوان میں اچھال دیے، جس سے اسمبلی کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کے اجلاس میں نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری دی گئی، جہاں مالیاتی اہداف، بجٹ تجاویز اور مختلف شعبوں کے لیے سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بورڈ آف ریونیو کے اہداف میں 25 فیصد جبکہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کے اہداف میں 77 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح پنجاب کے اپنے ریونیو اہداف مجموعی طور پر 42.7 فیصد بڑھانے کی منظوری بھی دی گئی۔







