لاہور: پنجاب پولیس کو آئندہ مالی سال میں مطلوبہ 330 ارب روپے کے بجائے 239 ارب روپے ملنے کا امکان ہے، جس کے باعث متعدد نئے منصوبوں کو مؤخر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس نے نئے مالی سال کے لیے صوبائی حکومت سے 330 ارب روپے کے فنڈز طلب کیے تھے، تاہم دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ پولیس کو تقریباً 90 ارب روپے کم بجٹ ملنے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں پولیس کے لیے 239 ارب روپے مختص کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کا بڑا حصہ تنخواہوں اور دیگر جاری اخراجات پر خرچ ہوگا۔ اندازاً 80 فیصد بجٹ اسی مد میں استعمال ہونے کی توقع ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق پنجاب پولیس کے نئے ڈیجیٹل ونگ کے قیام کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، جبکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کئی نئی ترقیاتی اسکیموں کو ایک سال کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ نئے تھانوں کی تعمیر، ٹریننگ سینٹرز کے قیام اور دیگر منصوبے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔
پنجاب پولیس نے تیل اور ایندھن کے اخراجات کے لیے بھی اضافی فنڈز کی ضرورت ظاہر کی تھی۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال میں محکمہ پولیس کو 230 ارب روپے کا بجٹ ملا تھا، تاہم بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث یہ رقم ناکافی ثابت ہوئی، جس کے بعد حکومت نے 45 ارب روپے کی اضافی سپلیمنٹری گرانٹ بھی فراہم کی تھی۔







