علیمہ خان کی وفاقی و صوبائی وزرا اور صحافیوں کو بطور گواہ طلب کرنے کی استدعا

انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کے دوران علیمہ خان نے وفاقی و صوبائی وزرا اور معروف صحافیوں کو بطور عدالتی گواہ طلب کرنے کی استدعا کردی ہے۔
سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو ہوئی، جس میں سینئر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ سمیت پراسیکیوشن ٹیم بھی موجود تھی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران علیمہ خان اپنے وکیل محمد فیصل ملک کے ہمراہ پیش ہوئیں، جبکہ وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ ان کے وکیل کی جانب سے استغاثہ کے 21 گواہوں کو بطور عدالتی گواہ طلب کرنے کی درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔
درخواست میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کو بطور گواہ طلب کرنے کی استدعا شامل ہے۔ اس کے علاوہ سینئر صحافی انصار عباسی، اینکر شاہزیب خانزادہ، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوز ایڈیٹرز اور بیوروچیفس کو بھی گواہ بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔
عدالت نے درخواست پر پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل تک جواب طلب کر لیا ہے۔ دورانِ سماعت علیمہ خان کو دفعہ 342 کے تحت 37 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھی فراہم کیا گیا، جبکہ دو ملزمان عدالت قریشی اور طیب شاہ کے 342 کے بیانات بھی قلمبند کر لیے گئے۔
عدالت نے مزید کارروائی کل تک ملتوی کر دی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں