تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی حالیہ فوجی سرگرمیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا میدان میں ناکامیوں کے باوجود ایران کے عزم کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اور مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن اپنے مفادات اور سلامتی کو یقینی بنانا چاہتا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کی دفاعی قوت کسی بھی حملے، اشتعال انگیزی یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہے گی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خلیج فارس کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بیرونی طاقتوں کو اس خطے میں ہمیشہ مشکلات اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی طاقتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ تہران امریکی پالیسیوں کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اپنے دفاعی مؤقف پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
Despite its defeats on the battlefield, the U.S. opted to test our determination.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 9, 2026
Our Powerful Armed Forces will leave no attack or threat unanswered.
Leave our region if you want to be safe.
History of the Persian Gulf has many chapters on dire fates of intruding outsiders. pic.twitter.com/O17GGtklxA







