جھنگ: پنجاب کے ضلع جھنگ میں اسپتال میں دورانِ علاج جاں بحق ہونے والی 18 سالہ لڑکی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نجی اسپتال میں نامعلوم افراد لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے، جس کے بعد وہ دوران علاج دم توڑ گئی۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں لڑکی کے جسم پر تشدد یا جنسی زیادتی کے کوئی واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔
تاہم مزید حتمی نتائج کے لیے نمونے فارنزک لیبارٹری لاہور بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 18 سالہ لڑکی شوگر کی مریضہ تھی اور گزشتہ پانچ سال سے انسولین استعمال کر رہی تھی۔ جب اسے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا تو وہ پہلے ہی بے ہوشی کی حالت میں تھی۔
پولیس کے مطابق لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال چھوڑ کر جانے والے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب متاثرہ لڑکی کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو اغوا کے بعد مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ پولیس اور متعلقہ ادارے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔







