اسلام آباد: پاکستانی سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب اور ہدفی کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد اہم ٹھکانوں کو تباہ کر دیا، جبکہ 26 شدت پسند مارے گئے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرحدی علاقوں میں دہشت گرد تنظیم کے کمانڈروں اور سہولت کاروں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائیوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور خفیہ ٹھکانوں پر مؤثر ضرب لگائی گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران چار اہم اہداف مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جن میں ایک تربیتی مرکز، ایک محفوظ پناہ گاہ، اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ اور اہم کمانڈروں کے مراکز شامل تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں انتہائی مہارت اور درستگی کے ساتھ انجام دی گئیں اور صرف دہشت گردوں اور ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد ان کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں ختم کیا جا سکے۔
پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
حکام کے مطابق نیشنل ایکشن پلان اور “عزمِ استحکام” پالیسی کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔







