ملتان (عوامی رپورٹر) بہاولپور کی تحصیل یزمان کے علاقہ ٹیل والا میں محکمہ انہار کے بعض افسران، انجینئرز اور مبینہ ٹاؤٹ مافیا کے خلاف متاثرہ کاشتکاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ بوائی کے نازک موسم میں نہری پانی کوکمائی کا ذریعہ بنا کر زمینداروں اور کسانوں کو معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔روزنامہ قوم کے دفتر آنے والے وفد جس میں چک نمبر 65 ڈی پی کے عبداللہ گل، حاجی رشید، محمد عارف اور دیگر کاشتکار شامل تھےنے الزام لگایا کہ نہر 3 آر ٹیل والا برانچ کو کنٹرول کرنے والے افسران میں مبینہ طور پر رشوت ستانی عروج پر ہے اور پانی جیسی بنیادی زرعی ضرورت کو کھلے عام سودے بازی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔متاثرہ کسانوں کے مطابق بوائی کے سیزن میں پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے عوض ان سے لاکھوں روپے طلب کیے گئے۔ وفد نے دعویٰ کیا کہ وہ مبینہ طور پر سب انجینئر کو ساڑھے تین لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں جبکہ مزید رقم بھی مختلف ذرائع سے وصول کی گئی۔ کسانوں نے الزام عائد کیا کہ بعض ریٹائرڈ افراد کو محکمہ کے غیر اعلانیہ ٹاؤٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو مختلف علاقوں میں مبینہ منتھلیاں اور غیر قانونی وصولیاں اکٹھی کرتے ہیں۔کاشتکاروں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے متعلقہ ایکیسن جام عمران سے ملاقات کرکے پانی کی بحالی کا مطالبہ کیا تو انہیں نامناسب رویے اور تلخ جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرین کے مطابق ایک سرکاری افسر کی جانب سے ان کی مذہبی شناخت اور ظاہری حلیے پر تبصرہ بھی کیا گیا، جس پر کسانوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔وفد کا کہنا تھا کہ معاملہ چیف انجینئر انہار بہاولپور تک پہنچایا گیا جس کے بعد وقتی طور پر ایک دن کیلئے پانی بحال ہوامگر اگلے ہی دن سپلائی دوبارہ بند کر دی گئی۔ متاثرہ افراد کے مطابق انہیں یہ تاثر دیا گیا کہ اصل اختیار چند مخصوص ہاتھوں میں ہے اور اعلیٰ حکام بھی مؤثر مداخلت نہیں کر سکتے۔ زرعی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر واقعی پانی کی تقسیم میں بدعنوانی، مبینہ ٹاؤٹ کلچر اور غیر شفاف نظام موجود ہے تو محکمہ انہار کے نگرانی اور احتساب کے دعوے کہاں کھڑے ہیں؟ کسانوں کا کہنا ہے کہ کپاس کی بوائی کے موسم میں پانی بند ہونا صرف فصل کا مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی بقا کا سوال ہے۔متاثرہ کاشتکاروں نے چیف انجینئر، سیکریٹری انہار، کمشنر بہاولپور اور حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی اعلیٰ سطحی، غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کرائی جائے، مالی لین دین کے الزامات کی چھان بین ہو، متعلقہ افسران اور مبینہ ٹاؤٹ نیٹ ورک کے کردار کا جائزہ لیا جائے اور کسانوں کو فوری پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔







