بی زیڈ یو انجیئرنگ فیکلٹی کے جبری انضمام کیخلاف اساتذہ، طلبہ، ملازمین سڑکوں پر نکل آئے

ملتان ( خصوصی رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے مجوزہ جبری انضمام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں اساتذہ، افسران، ملازمین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاج ڈین آفس، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سامنے منعقد ہوا، شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فیکلٹی کے تشخص، خودمختاری اور تعلیمی معیار کے تحفظ کے حق میں نعرے درج تھے۔ احتجاج میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن ،آفیسرز یونین اور سٹاف یونین بی زیڈ یو نے بھی بھرپور شرکت اور حمایت کا اعلان کیا۔احتجاج کی قیادت ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر انجینئر ڈاکٹر طاہر سلطان نے کی، جبکہ مختلف انجینئرنگ شعبہ جات کے چیئرمین صاحبان بھی احتجاج میں شریک ہوئے، جن میں چیئرمین سول انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر مدثر منیر، چیئرمین الیکٹریکل انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر عبد الستار ملک، چیئرمین کمپیوٹر انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر عمران ملک، چیئرمین مکینیکل انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر طاہر قریشی، چیئرپرسن بلڈنگ اینڈ آرکیٹیکچر انجینئرنگ ڈاکٹر سمرا یوسف، چیئرمین ٹیکسٹائل انجینئرنگ ڈاکٹر عبد الوقار، اور ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ میٹیریلز ڈاکٹر وحید احمد شامل تھے۔ سینئر اساتذہ، افسران اور ملازمین کی بڑی تعداد نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔شرکاء نے پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اس مجوزہ پالیسی کو سختی سے مسترد کیا جس کے تحت FE&T، BZU کو ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (MNS-UET) ملتان میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، بی زیڈ یو ایک مستحکم، فعال اور کئی دہائیوں پر محیط تعلیمی ورثہ رکھنے والا ادارہ ہےجہاں سات سے زائد انجینئرنگ پروگرام کامیابی سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب اور بالغ فیکلٹی کو ایک نئے اور غیر مستحکم ادارے میں ضم کرنا نہ صرف تعلیمی نقصان کا باعث ہوگا بلکہ یہ خطے میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوگا۔مقررين کی طرف سے MNSUETکو BZUميں ضم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ،احتجاجی مظاہرے میں شریک اساتذہ، افسران، ملازمین اور طلبہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے ادارے کی شناخت، خودمختاری اور معیار کے تحفظ کیلئے ہر جمہوری اور آئینی فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بی زیڈ یو کی تاریخی اور مضبوط فیکلٹیز کو ناکام منصوبہ بندی کے نتائج چھپانے کیلئے قربان نہیں کیا جا سکتا۔احتجاج کے اختتام پر متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ حکومتِ پنجاب اور پی ایچ ای سی فوری طور پر مجوزہ انضمام کی پالیسی واپس لیں، فیکلٹی کے تشخص کو برقرار رکھا جائے اور اساتذہ، افسران، ملازمین اور طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے بچایا جائے۔شرکاء نے اعلان کیا کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں