کسٹمزحکام نے سمگلڈ سگریٹ سے بھری 2 گاڑیاں رشوت لیکر چھوڑدیں

ملتان (وقائع نگار)ڈپٹی کلکٹر کسٹمز ملتان جواد الحسن پر مبینہ کرپشن کا سنگین الزام ڈیرہ غازی خان میں پکڑی گئیں سمگل شدہ سگریٹوں سے بھری دو گاڑیوں کو مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے لے کر جانے دیا گیاپاکستان کسٹمز انفورسمنٹ ملتان کے ڈپٹی کلکٹر جواد الحسن نے ڈیرہ غازی خان میں سمگل شدہ غیر ملکی سگریٹوں سے بھری دو گاڑیوں کو مبینہ طور پر ضبط کرنے کے بعد 30 لاکھ روپے کی وصول کر کے گاڑیوں کو بغیر کسی کیس درج کیے جانے دیا۔ یہ انکشاف ذرائع نے کیا ہے جو اس کارروائی کے عینی شاہد تھے۔ذرائع کے مطابق واقعہ کچھ روز قبل پیش آیا جب ڈپٹی کلکٹر جواد الحسن کی قیادت میں کسٹمز انفورسمنٹ ٹیم نے ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں دو مشتبہ گاڑیوں کو روکا۔ گاڑی نمبر NAF-044 اور NAF-810 میں اوپر کوئلے کے بوریوں کا ڈھیر لدا ہوا تھا، جبکہ نیچے لاکھوں روپے مالیت کے غیر ملکی برانڈڈ سگریٹوں کے کارٹن چھپائے گئے تھے۔ تکنیکی معائنہ کے بعد ان گاڑیوں میں سمگل شدہ سگریٹوں کی بھاری مقدار برآمد ہوئی تھی۔عام طور پر ایسے کیسز میں فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے، گاڑیاں ضبط کر لی جاتی ہیں اور سمگلروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈپٹی کلکٹر جواد الحسن نے سمگلروں سے مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے نقد وصول کیے اور دونوں گاڑیوں کو بغیر کسی کارروائی کے چھوڑ دیا۔ سگریٹوں کی مالیت لاکھوں روپے میں بتائی جا رہی ہے، جو حکومت کو بھاری محصولات کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتی تھی۔ایک معتبر ذریعے نے بتایا، “گاڑیوں کو روکنے کے بعد ڈپٹی کلکٹر نے خود معائنہ کیا۔ جب سگریٹوں کی بڑی مقدار سامنے آئی تو سمگلروں نے فوری طور پر بات چیت شروع کر دی۔ کچھ دیر کی گفت و شنید کے بعد پیسے کا لین دین ہوا اور گاڑیاں چھوڑ دی گئیں۔ کوئی کیس، کوئی ضبطی، کچھ نہیں ہوا۔”دوسرے ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ سمگل شدہ سگریٹس افغانستان یا ایران سے پاکستان میں داخل کیے جا رہے تھے اور مقامی مارکیٹ میں فروخت کے لیے بھیجے جا رہے تھے۔ کسٹمز حکام کی جانب سے ایسے سمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کیا جاتا رہتا ہے، مگر اس واقعے نے ایک بار پھر محکمانہ کرپشن کے الزامات کو ہوا دی ہے سمگلنگ کا بڑھتا ہوا رجحانپاکستان میں غیر ملکی سگریٹوں کی سمگلنگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت کو اربوں روپے کے محصولات کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ مقامی صنعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور ملتان روٹ سمگلروں کے لیے نسبتاً آسان راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں کوئلہ، پتھر اور دیگر سامان کے نیچے قیمتی سمگل شدہ مال چھپایا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر محکمانہ سطح پر ایسی مبینہ ملی بھگت ثابت ہوئی تو نہ صرف متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے بلکہ پورے نظام کو شفاف بنانے کے لیے اندرونی انکوائری بھی ضروری ہے۔چیف کلکٹر کسٹم مسعود عباسی کو اس بارے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں