ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم میں ملتان کی ایک یونیورسٹی کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ طور پر تھیسز کے نام پر رقوم وصولی کی خبریں شائع ہونے کے بعد اگرچہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اساتذہ کو کسی بھی مد میں طلبہ و طالبات سے پیسے لینے پر سخت ترین پابندی اور کارروائی کی وارننگ جاری کر دی، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق اس تمام معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اب ان طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو مبینہ طور پر “خوشی سے” پیسے دینے پر آمادہ نہیں۔ متاثرہ طالبات کے مطابق انتظامیہ کی وارننگ کے بعد صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید سنگین ہو گئی ہے اور بعض طالبات کے تھیسز کام کو بار بار “ریجیکٹ” کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسی طالبات کو مختلف تکنیکی اعتراضات لگا کر ذہنی دباؤ میں مبتلا کیا جا رہا ہے تاکہ وہ بالآخر مبینہ مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائیں۔ کئی طالبات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب انہیں کھلے الفاظ میں یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ “اگر کام آسانی سے کروانا ہے تو طریقہ سمجھنا ہوگا”، جبکہ پیسے نہ دینے والی طالبات کو مسلسل تاخیری حربوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ دو متاثرہ طالبات کے والدین نے خود روزنامہ قوم سے رابطہ کرتے ہوئے انتہائی افسوسناک درخواست کی۔ والدین نے روزنامہ قوم سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ “خدارا خبریں مت لگائیں، ہم پیسے دے کر تھیسز کروا لیں گے، لیکن ہماری بچیوں کے سال ضائع نہ ہوں۔” ایک والد نے دکھی لہجے میں کہا کہ “ایمانداری اپنی جگہ، مگر موجودہ نظام میں سچ بولنے والے ہی پِس جاتے ہیں۔ اگر پیسے دے کر بچیوں کی ڈگری مکمل ہو سکتی ہے تو شاید یہی آسان راستہ رہ گیا ہے۔” والدین کے یہ جملے نہ صرف ایک تعلیمی ادارے کے ماحول پر سنگین سوالیہ نشان ہیں بلکہ پورے نظامِ تعلیم کے لیے لمحۂ فکریہ بھی قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگر طالبات اور ان کے والدین اس حد تک خوفزدہ ہو جائیں کہ انصاف مانگنے کے بجائے “خاموشی کے بدلے پیسے” دینے کو ترجیح دینے لگیں تو یہ صورتحال کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے انتہائی خطرناک سمجھی جائے گی۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ یونیورسٹیوں میں بااثر افراد کے سامنے طالبات مکمل طور پر بے بس ہیں۔ بعض طالبات نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وارننگ کے بعد ان کے ساتھ رویہ مزید سخت ہو گیا ہے اور معمولی معمولی اعتراضات لگا کر ان کے ریسرچ ورک کو بار بار واپس کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ طالبات کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے آواز بلند کی تو ان کی ڈگریاں، ریسرچ اور مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے بعض حلقے اس پورے معاملے کو ادارے کی ساکھ کے لیے تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو کھلی تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں، اور اگر شواہد موجود ہیں تو پھر محض زبانی تنبیہ کے بجائے سخت عملی کارروائی کی جائے تاکہ طالبات کا اعتماد بحال ہو سکے۔







