ای سکوٹی حادثہ، واپڈا کی سوشل میڈیا پر غلط بیانی، ماہرین نے جھوٹ بے نقاب کر دیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) ٹرانسفارمر کے نیچے الیکٹرک سکوٹی کھڑی کرنے کے بعد بائیک پر سوار شخص کو آگ لگ جانے پر واپڈا افسران اور اہلکاران کی غفلت کی بجائے تمام تر ملبہ الیکٹرک سکوٹی کمپنیز پر ڈال دیا گیا۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ دنوں ٹرانسفارمر کے نیچے الیکٹرک سکوٹی پر بیٹھے ایک شخص کو آگ لگنے کے افسوسناک واقعے نے عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا، تاہم اس حادثے کے فوری بعد اصل حقائق اور تکنیکی وجوہات جاننے کے بجائے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، میڈیا حلقوں اور ٹک ٹاکرز نے واقعے کو غلط رنگ دینا شروع کر دیا۔ حیران کن طور پر بعض سرکاری ملازمین، حتیٰ کہ بعض پولیس اہلکار بھی ویڈیوز بناتے دکھائی دیے جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ الیکٹرک سکوٹی نے کرنٹ پکڑا اور اسی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قصوروار الیکٹرک سکوٹی تھی یا معاملہ کچھ اور تھا؟ اس حوالے سے ملتان کی وفاقی انجینئرنگ یونیورسٹی کے ماہرین سے گفتگو کی گئی تو متعدد ماہرین نے اس واقعے کے پس منظر میں ایک بالکل مختلف اور تشویشناک پہلو کی نشاندہی کی۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی تکنیکی جائزے میں یہ امکان زیادہ نمایاں ہے کہ متعلقہ ٹرانسفارمر غیر معمولی طور پر بہت نیچی سطح پر نصب تھا۔ جیسے ہی متاثرہ شخص سکوٹی کھڑی کرکے اوپر کی طرف سیدھا ہوا یا اس کا جسم ٹرانسفارمر سے ٹچ ہوا تو سرکٹ مکمل ہونے کے باعث اس کے جسم سے کرنٹ گزرا اور آگ بھڑک اٹھی۔ ماہرین اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اگر واقعہ واقعی سکوٹی کے اندرونی فالٹ یا بیٹری دھماکے کی وجہ سے ہوتا تو سکوٹی شدید طور پر متاثر ہوتی، مگر دستیاب مشاہدات میں سکوٹی بڑی حد تک محفوظ دکھائی دی، جس سے کئی نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔ روزنامہ قوم کی ٹیم نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے ملتان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا تو حیران کن انکشافات سامنے آئے۔ شہر کے متعدد علاقوں میں ٹرانسفارمرز تقریباً پانچ سے ساڑھے پانچ فٹ کی کم ہائٹ پر نصب پائے گئے۔ ایک عام انسان اگر اپنے بازو اوپر اٹھائے تو اس کی مجموعی رسائی باآسانی چھ سے ساڑھے چھ فٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے میں زمین کے انتہائی قریب نصب ہائی وولٹیج ٹرانسفارمر کسی بھی وقت انسانی جانوں کیلئے موت کا جال ثابت ہو سکتے ہیں۔ تکنیکی حلقوں کے مطابق بجلی کی تقسیم کے نظام میں حفاظتی معیارات کے تحت ایسے برقی آلات کو محفوظ اور مناسب بلندی پر نصب کیا جانا ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ عام شہری غیر ارادی طور پر ان کی زد میں نہ آئیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کہیں واقعی ٹرانسفارمر خطرناک حد تک نیچے نصب ہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا حفاظتی آڈٹ، نگرانی اور معائنہ کا نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے؟ الیکٹریکل نظام میں ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر کا بنیادی کام تقریباً 11 ہزار وولٹ کی ہائی وولٹیج لائن کو گھریلو استعمال کے قابل کم وولٹیج میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اطراف حفاظتی فاصلے، مناسب تنصیب اور احتیاطی اقدامات انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ہائی وولٹیج تنصیبات انسانی رسائی کے قریب ہوں تو حادثات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ حادثات کے بعد اصل تکنیکی وجوہات، حفاظتی خامیوں اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے بجائے سوشل میڈیا بیانیوں، غیر مصدقہ دعوؤں اور سنسنی خیز ویڈیوز کا سیلاب کئی اہم سوالات کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ اب اصل سوال یہی ہے کہ آیا متعلقہ ادارے اس واقعے کی آزادانہ، شفاف اور تکنیکی تحقیقات کریں گے یا معاملہ حسبِ روایت وقتی شور میں دب جائے گا؟ اور اگر حفاظتی غفلت ثابت ہوتی ہے تو کیا ذمہ دار افسران اور متعلقہ حکام کا احتساب ہوگا یا انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود نظام خاموش تماشائی بنا رہے گا؟

شیئر کریں

:مزید خبریں