کسٹم ویئر ہاؤس سے اربوں کی سمگل شدہ اشیا غائب، ڈبوں سے چوکر، لکڑی برآمد

ملتان (سہیل چوہدری سے)کسٹم ملتان میں اربوں روپے کی سمگل شدہ اشیاء کی مبینہ چوری کا انکشاف ویئر ہاؤس سے سامان غائب، جلانے والے ڈبوں میں لکڑی کا بورا اور چوکر شامل تھی کسٹم ملتان کے شیر شاہ روڈ پر واقع سرکاری ویئر ہاؤس سے اربوں روپے مالیت کا سمگل شدہ سامان مبینہ طور پر چوری کر کے غَلّہ منڈی میں فروخت کر دیا گیا۔ ایڈیشنل کلکٹر سید عطرت حسین، ڈپٹی کلکٹر جواد الحسن، سپرنٹنڈنٹ سلیم افضل اور سپرنٹنڈنٹ رمضان سیال پر ٹھیکیدار عابد چوہان کے ساتھ ملی بھگت کا سنگین الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق، کسٹم حکام نے دو روز قبل شیر شاہ ویئر ہاؤس میں ضبط شدہ 43 مختلف اقسام کی اشیاء کو نذر آتش کیا، جن کی مالیت 3 ارب 80 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ سگریٹ، گٹکا، چھالیہ، پان مصالحہ، شی شہ فلیور، سکمڈ ملک پاؤڈر، مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (اجینوموٹو) اور ویپس سمیت اربوں روپے کا اصل سامان پہلے ہی چوری کر کے غَلّہ منڈی (علی منڈی) میں فروخت کر دیا گیا تھا۔جلائے جانے والے ڈبوں میں اصل مال کی بجائے لکڑی کا بورا اور چوکر بھرے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم گروہ کی کارروائی تھی جس نے سرکاری ویئر ہاؤس کو اپنا ذاتی گودام بنا رکھا ہے مبینہ ملوث افسران ایڈیشنل کلکٹر سید عطرت حسین (سربراہ)، ڈپٹی کلکٹر جواد الحسن، سپرنٹنڈنٹ سلیم افضل اور سپرنٹنڈنٹ رمضان سیال۔اور مقامی ٹھیکیدار عابد چوہان، جو مبینہ طور پر سامان کی فروخت اور ڈبوں کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔شامل ہیں عابد چوہان نے اپنے ملازمین سے مل کر مختلف اوقات میں سامان ویئر ہاؤس سے نکال کر غلہ منڈی میں فروخت کرتے رہےذرائع نے بتایا کہ سمگل شدہ سگریٹ اور چھالیہ جیسی اشیاء کی مانگ زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کی چوری زیادہ آسان ہوئی۔ جبکہ دیگر اشیاء کو بھی اسی طرح ہینڈل کیا گیا۔ ویئر ہاؤس کی سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں سامان کیسے غائب ہو سکتا ہے اور جلانے سے پہلے تصدیق کیسے نہیں ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ نہ صرف کسٹم ڈپارٹمنٹ کے لیے بڑا اسکینڈل ہوگا بلکہ قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان بھی پہنچا ہے۔ سمگلنگ کے خلاف کارروائی کرنے والے ادارے اگر خود اس میں ملوث ہو جائیں تو نظام کی جڑیں ہل جاتی ہیں۔تاجر برادری اور شہریوں نے فوری طور پراندرونی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔تمام ملوث افسران کے خلاف تادیبی کارروائی۔اورویئر ہاؤس کی مکمل آڈٹ ، سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں