ایم ڈی واسا کی آشیرباد، سیاہ و سفید کے مالک ڈپٹی ڈائریکٹر کی غیر قانونی ترقی

ملتان ( قوم ریسرچ سیل ) واسا میں ایم ڈی فیصل شوکت کی آشیر باد سے ادارے میں سیاہ و سفید کے مالک ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن و پی آر او حسن بخاری کی غیر قانونی اپ گریڈیشن کا انکشاف ہوا ہے اور اس حوالے سے اینٹی کرپشن نے ان کے خلاف دی گئی درخواستیں دبا رکھی ہیں اور کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن و پی آر او سمیت واسا میں چار عہدوں پر براجمان حسن بخاری کو 30 اگست 2008 کو واسا ملتان میں بطور پبلک ریلیشن آفیسر گریڈ 16 کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کیا گیا تھا،بعد ازاں 20 دسمبر 2015 کو انہیں ریگولر کردیا گیا۔ حسن بخاری نے بطور پی آر او سیاسی اور انتظامی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر اپنے لیے غیر قانونی فوائد حاصل کیے،معلوم ہے کہ واسا ملتان میں حسن محمود بخاری جو کہ بطور پبلک ریلیشن آفیسر گریڈ 16 میں کام کر رہے تھے ان کو واسا افسران نے اختیارات کا ناجائز استعمال اور رولز اینڈ ریگولیشن کے خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر گریڈ 17 کی پوسٹ دے رکھی تھی جو حکومت پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اپگریڈیشن کے رولز کی خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح ملتان ترقیاتی ادارہ ملتان میں پبلک ریلیشن آفیسر کی پوسٹ گریڈ 16 کی ہے جس کو محکمہ نے اپ گریڈ کر کے سکیل 17 دیا تھا مگر فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اعتراض پر اس کو واپس گریڈ 16 میں کر دیا گیا اور ریکوری بھی کر لی گئی بعد میں اب ایم ڈی اے ملتان میں پبلک ریلیشن آفیسر کی پوسٹ اپ گریڈ کر کے گریڈ 17 کی کر دی گئی ہے ،واسا ملتان ایم ڈی اے کا ذیلی ادارہ ہے مگر حسن محمود بخاری نہ صرف حکومت پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اپ گریڈیشن رولز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ ادارے کے سربراہ نے لیٹر نمبر 2429 مورخہ 15 جولائی 2023 غلط بیانی کر کے ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے کو اپ گریڈیشن پر مجبور کر دیا۔ اس تمام عمل میں مبینہ طور پر قواعد کی خلاف ورزی اور سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور ادارے کے سروس رولز اور بھرتیوں کے طریقہ کار کو ان کے فائدے کے لیے استعمال کیا گیا،جس سے دیگر ملازمین کی حق تلفی ہوئی اور ادارے کے مالی و انتظامی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ سابق افسران کی طرح موجودہ ایم ڈی واسا فیصل شوکت نے بھی حسن بخاری کو گریڈ 18 کی پوسٹ ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن سمیت دیگر تین عہدوں پر تعینات رکھا ہوا ہے معلوم ہوا ہے کہ اس تمام تر صورتحال پر ایک شہری کی جانب سے اینٹی کرپشن کو درخواست بھی دی گئی ہے جس میں درخواست گزار نے حسن بخاری، متعلقہ افسران اور سہولت کاروں کے خلاف شفاف تحقیقات اور مراعات واپس لیکر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ حسن بخاری کے خلاف پنجاب گورنمنٹ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے قواعد اور اسٹیبلشمنٹ ایکٹ 1976 کے سیکشن 16 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا تعین ہوسکے، اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو اداروں میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی حکمرانی متاثر ہوگی یہ بھی معلوم ہوا کہ اینٹی کرپشن میں حسن بخاری کے خلاف درخواستوں کو نامعلوم وجوہات کی بناء پر بریکیں لگی ہوئی ہیں اور تاحال ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی جس کی وجہ سے اینٹی کرپشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں