ملتان (نیوز رپورٹر) وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے ملک بھر میں نئے سوئی گیس کنکشن عارضی طور پر بند کیے جانے کے احکامات کے بعد شہر ملتان کے ہزاروں درخواست گزار شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ جن درخواست گزاروں نے جنوری میں ڈیمانڈ نوٹس کی مد میں ہزاروں روپے، حتیٰ کہ پچیس ہزار روپے تک ارجنٹ فیسیں جمع کروا کر تمام قانونی مراحل مکمل کر لیے تھے، وہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود بھی گیس کنکشن کے حصول سے محروم ہیں۔ عارضی پابندی میں ایسے کیسز کو بھی پینڈنگ کر دیا گیا ہے جن کے ڈیمانڈ نوٹس پہلے ہی کلیئر ہو چکے تھے، اور انہیں دوبارہ نئی فہرست میں شامل کر کے عمل کو تعطل کا شکار بنا دیا گیا ہے، جس پر متاثرہ درخواست گزار دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے کئی دہائیوں بعد نئے سوئی گیس کنکشن بحال کرنے کے اعلان نے عوام میں امید کی نئی لہر پیدا کی تھی۔ ملک بھر میں لاکھوں شہریوں نے جلد میٹر لگنے کی امید پر درخواستیں جمع کروائیں جبکہ ہزاروں افراد نے ارجنٹ کنکشن کی مد میں 25 ہزار روپے تک اضافی فیس بھی ادا کی، تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود بیشتر درخواست گزار آج بھی ہاتھوں میں ڈیمانڈ نوٹس لیے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ذرائع کے مطابق سوئی گیس حکام کی سست روی نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ جنوری میں فیسیں جمع ہونے کے باوجود بیشتر علاقوں میں نہ سروس لائن بچھائی گئی اور نہ ہی میٹر تنصیب کا عمل مکمل کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے کے پاس اتنی تیاری نہیں تھی تو لاکھوں شہریوں سے ڈیمانڈ نوٹس اور ارجنٹ فیسیں کیوں وصول کی گئیں؟ دوسری طرف نئے کنکشنز پر پابندی کے فیصلے نے پہلے سے انتظار کرنے والے صارفین کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ان سے ہزاروں روپے وصول کیے گئے جبکہ دوسری جانب انہیں بنیادی سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت اور سوئی ناردرن گیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جن صارفین کے ڈیمانڈ نوٹس اور فیسیں پہلے ہی جمع ہو چکی ہیں انہیں فوری طور پر گیس کنکشن فراہم کیے جائیں اور نئی پابندی کا اطلاق پرانے درخواست گزاروں پر نہ کیا جائے۔







