بی زیڈ یو، فیکلٹیز کے انضمام کی سفارشات سازش قرار، اساتذہ میں بے چینی

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جامعات کے انضمام سے متعلق سامنے آنے والی سفارشات کے بعد بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے تدریسی حلقوں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے مجوزہ سفارشات کو یونیورسٹی کے خلاف ایک سنگین اقدام قرار دے دیا ہے۔ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے مطابق حال ہی میں ڈاکٹر رانا اقرار نے دوبارہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان پر حملہ کرنے کا پلان بنایا ہے، جس کے مطابق بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی چار فیکلٹیز، جن میں انجینئرنگ، ویٹرنری، فوڈ سائنسز اور ایگریکلچر شامل ہیں، کو نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان اور نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان کے ساتھ ضم کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب کی گئی ہیں۔ اساتذہ تنظیم کے رہنماؤں نے اس عمل کو ’’گھناؤنی سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ جنوبی پنجاب کی سب سے پرانی اور سب سے بڑی جامعہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو کمزور اور تباہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی زیڈ یو نہ صرف خطے کی اعلیٰ تعلیم کا ایک مضبوط ادارہ ہے بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہزاروں طلبہ و طالبات کی علمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ تربیت کا مرکز بھی رہی ہے، اس لیے اس کی بنیادی فیکلٹیز کو الگ کرنا کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد بنیامین، جو فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز پنجاب کے صدر بھی ہیں، نے اس حوالے سے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس نوعیت کی کوشش کی جا رہی ہو، بلکہ اس سے قبل بھی 2016 میں اسی نوعیت کی صورتحال سامنے آ چکی ہے۔ ڈاکٹر محمد بنیامین کے مطابق 2016 میں بھی رانا اقرار، جب زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور زرعی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلرز تھے، تب بھی اسی طرح کی سازش کی گئی تھی، تاہم اُس وقت بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور ایمپلائز یونین نے مشترکہ جدوجہد کے ذریعے اس کوشش کو ناکام بنایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کا یہ پروپوزل کسی صورت بھی قابل قبول نہیں کہ ایک پچاس سال پرانی اور تاریخی یونیورسٹی کی فیکلٹیز کو چند سال قبل قائم ہونے والی جامعات میں ضم کر دیا جائے۔ ان کے مطابق اس طرح کے فیصلے نہ صرف ادارہ جاتی شناخت، تعلیمی تسلسل اور تحقیقی ڈھانچے کو متاثر کریں گے بلکہ جنوبی پنجاب کے اعلیٰ تعلیمی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد بنیامین نے حکومت کو متبادل تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت وقت واقعی ملتان میں پبلک یونیورسٹیوں کی تعداد کم کرنا چاہتی ہے تو اس کا بہترین اور منطقی حل یہ ہے کہ نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان اور نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان کو بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ضم کر دیا جائے، نہ کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی فیکلٹیز کو الگ کر کے نئی جامعات کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر اساتذہ برادری اپنا مؤقف بھرپور انداز میں سامنے لائے گی اور ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کی جائے گی جس سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی ادارہ جاتی حیثیت، تعلیمی وقار یا انتظامی ساخت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو۔ واضح رہے کہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حالیہ اجلاس میں مختلف جامعات کے انضمام سے متعلق سفارشات اور فیصلے سامنے آئے تھے، جن میں ڈیرہ غازی خان سمیت صوبے کے مختلف علاقوں کی جامعات کے انضمام کے علاوہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے انجینئرنگ اور ایگریکلچر/ویٹرنری کالجز کو بالترتیب نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی اور نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے ساتھ ضم کرنے سے متعلق تجاویز بھی شامل ہیں جن پر اب تعلیمی حلقوں میں بحث اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں