ملتان (کرائم ریسرچ سیل) رینکر پولیس افسران کانسٹیبلز اور دیگر نان گزٹیڈ پولیس اہلکار جنہیں عرف عام میں خاکی مخلوق کہا جاتا ہے، کے رقص و سرود کی دنیا سے تعلق رکھنے والی خواتین سے گہرے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں اور ان تعلقات کے حوالے سے ان کا موقف بھی بڑا سیدھا دو ٹوک اور واضح ہوتا ہے کہ ہمیں غنڈہ عناصر اور خطرناک کریمنلز کی زیادہ تر معلومات انہی سے ملتی ہیں اس لیے ہمیں ان سے روابط رکھنے پڑتے ہیں۔ پولیس کی دیکھا دیکھی بعض طاقتور اداروں کے نچلے درجے کے ملازمین بھی اسی موقف کے تحت اپنا نیٹ ورک چلاتے ہیں اور دو طرفہ فوائد حاصل کرتے ہیں۔ پنجاب پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہو کر ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے ایک پولیس آفیسر کہا کرتے تھے کہ زندگی میں کبھی کسی ایسے شعبے کی خاتون یا اس کے پروموٹر سے واسطہ پڑ جائے تو مقابلے پر نہ اترنا بلکہ راستہ چھوڑ دینا کیونکہ حتمی جیت انہی کی ہونی ہے اور شکست آپ کی۔ کئی بار مذکورہ ریٹائرڈ ایس پی کی کہی ہوئی اس بات کو آزمانے کا تحقیقاتی رپورٹنگ کے دوران رپورٹرز کو واسطہ پڑا تو ہر مرتبہ ان کا فارمولا اور کہی ہوئی بات سو فیصد درست ثابت ہوئی۔ ملتان کی ایک سٹیج ڈانسر چند سہولت کاروں کے ساتھ شجاع آباد میں ایک گھر پر حملہ آور ہوتی ہے اور اس گھر سے خواتین کو گلی میں نکال کر سرعام تشدد کا نشانہ بناتی ہے، 15 پر کال ہوتی ہے، سٹی پولیس اسٹیشن شجاع آباد کا عملہ فوری پہنچتا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج پر خاتون پر تشدد کے واضح ثبوتوں کے بعد پولیس مقدمہ درج کرنا چاہتی ہے مگر اسی دوران ملتان سے اینٹی کرپشن کے ایک سابق ڈپٹی ڈائریکٹر کا انتہائی سخت حکم نامے پر مشتمل ٹیلی فون ایس ایچ او کو موصول ہوتا ہے کہ کسی قسم کی کاروائی نہیں کرنی۔ حملہ آوروں کو عزت کے ساتھ واپس روانہ کر دو اور ان کی آپس میں صلح کرا دو۔ ایس ایچ او صلح کرواتا ہے اور دونوں پارٹیوں کو تھانے سے واپس بھیج دیتا ہے مگر سات دن بعد وہی ایس ایچ او حملہ آور خواتین کے سہولت کاروں کے حکم پر اسی گھر کے مرد اور خواتین سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیتا ہے جنہیں گلی میں گھسیٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی کیونکہ اینٹی کرپشن کا وہی طاقتور آفیسر ایف آئی آر کی کمزور دفعات سے مطمئن نہیں ہوتا لہٰذا ایف آئی آر کی ضمنی میں زیورات کی چوری ڈال کر 379 کا اضافہ بھی کر دیا جاتا ہے۔ اب یہاں سے ناصر چٹا نامی تفتیشی کی روزی روٹی کے سامان کا انتظام شروع ہوتا ہے۔ تفتیشی ناصر چٹا ضمانت منسوخ کروا لیتا ہے اور پھر ہائی کورٹ کے احاطے میں ناصر چٹا نامی تفتیشی عمر نامی ملزم سے 50 ہزار روپیہ نقد گن کر رشوت لیتا ہے حالانکہ وہ 20، 20 ہزار روپیہ دو مرتبہ پہلے لے چکا ہوتا ہے جس کے بذریعہ ایزی پیسہ ٹرانسفر کے ثبوت موجود ہیں۔ یہ 50 ہزار روپیہ اس مد میں لیا جاتا ہے کہ اگر عمر نامی ملزم کی ضمانت منسوخ ہوئی تو میں تمہیں گرفتار نہیں کروں گا بلکہ عدالت سے فرار کروا دوں گا۔ یہ رقم اسی وقت ہائی کورٹ کے احاطے میں اسے دے دی جاتی ہے اور حسب وعدہ ضمانت منسوخ ہونے کے بعد وہ عمر نامی ملزم کو فرار کروا دیتا ہے۔ جو اب مفرور ہے اور مفروری کے عوض باقاعدگی سے تفتیشی کی خدمت پر مامور ہے۔ اس دوران ملزم پارٹی ڈی ایس پی شجاع آباد کے روبرو پیش ہوتی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی جاتی ہے تو سارے واقعہ سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد ڈی ایس پی حکم دیتا ہے کراس ورشن درج کیا جائے اور حملہ آوروں کے خلاف بھی 379 کی دفعہ کے تحت کاروائی شروع کی جائے۔ اب ایس ایچ او کراس ورشن درج تو کر لیتا ہے مگر دفعہ 379 کا اضافہ نہیں کرتا اور دو ٹوک الفاظ میں ڈی ایس پی ہی پر الزام لگاتے ہوئے کہتا ہے کہ ڈی ایس پی نے بذریعہ ٹیلی فون مجھے منع کر دیا ہے۔ حالانکہ ڈی ایس پی کا ریڈر بھی 379 لگانے کے عوض 20 ہزار روپیہ پہلے ہی لے چکا تھا جس کا ڈی ایس پی کو سرے سے علم بھی نہیں ہوتا۔ اب سر عام تشدد کا شکار ہونے والی پارٹی اپنی درخواست لے کر سی پی او ملتان صادق ڈوگر کے پاس پیش ہوتی ہے اور جب وہاں سے تفتیش کو کسی ایماندار افسر کو منتقل کرنے کی اپیل منظوری سے محروم رہ جاتی ہے تو تفتیش کی تبدیلی کی درخواست ریجنل پولیس آفیسر ملتان عثمان اکرم گوندل کو روبرو پیش ہو کر دائر کی جاتی ہے۔ جسے ایس ایس پی آر آئی بی راؤ نعیم شاہد کو مارک کر دیا جاتا ہے تو راؤ نعیم شاہد تین گھنٹے تک دونوں پارٹیوں کا موقف سنتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مقدمے کا اندراج سراسر بے بنیاد ہوا ہے۔ اس لئے کارروائی حملہ آوروں کے خلاف ہونی چاہیے اور اپنی رپورٹ میں تفتیش کی تبدیلی کی سفارش کرتے ہیں کیونکہ وہ تمام تر معاملات سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور ان تمام ثبوتوں کو بھی دیکھ لیتے ہیں جو تفتیشی کے اکاؤنٹ میں پیسوں کے ٹرانسفر کے ثبوت ملزم پارٹی کے پاس موجود تھے۔ ایس ایس پی آر آئی بی کی رپورٹ کے باوجود آر پی او آفس سے تبدیلی کی تفتیش کی درخواست رد ہو جاتی ہے تو ملزم پارٹی اپیل میں ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے روبرو پیش ہو جاتی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان ماتحت عملے سے رپورٹ طلب کرتے ہیں اور کارروائی کا حکم دیتے ہیں مگر حیران کن طور پر ان کے احکامات پر مشتمل درخواست ہی غائب ہو جاتی ہے اور اب یہ درخواست گزشتہ 15 دن سے ڈھونڈے بھی نہیں مل رہی۔ اس صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سال ہا سال سے ملتان میں ریڈرز مافیا اتنا مضبوط ہے کہ ڈی ایس پی کے ریڈر سے لے کر ایڈیشنل آئی جی کے عملے تک یہ ریڈرز مافیا کسی کے کنٹرول میں نہیں اور جو سمجھدار اور کاریگر قسم کے پولیس سے ڈیل کرنے والے لوگ ہیں وہ اب ایس ایچ اواوز دیگر پولیس افسران سے رابطہ کرنے کے بجائے ریڈرز سے سہولت کاری لیتے ہیں اور یہ ملتان پولیس کے با اختیار افسران کے اختیارات اور رٹ پر یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ریڈرز مافیا نے انہیں کیوں اور کیسے بے بس کیا ہوا ہے اور سال ہا سال سے چند مخصوص اور گنے چنے اہلکاروں پر مشتمل یہ ریڈرز گینگ کیسے انتہائی کامیابی اور منظم طریقے سے پولیس کے سارے سسٹم کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق آپریٹ کرتا آ رہا ہے۔ یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں کر درجنوں افسران آئے اور ٹرانسفر ہو کر چلے گئے مگر اس ریڈرز مافیا اور محکمہ پولیس میں 15 سے 20 فیصد سے بھی کم انتہائی کرپٹ اور کاری گر مافیا کو لگام نہیں ڈال سکے۔حالانکہ ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو سسٹم کا کسی بھی طور پر حصہ نہ تھے مگر وہ بھی بے بس ہی دکھائی دئیے۔



Multan police, police corruption, readers mafia, bribery allegations, Shujabad police







