ملتان(نمائندہ خصوصی)ملتان سمیت پنجاب کی 8 جیلوں میں ڈیلی ویجز بھرتیاں، جیل پریزن اسٹورز کے قیام پر سوالات اٹھنے لگےملتان سمیت صوبہ پنجاب کی 8 جیلوں میں جیل اصلاحات اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے نام پر ایک نیا اقدام سامنے آیا ہے، جس کے تحت تقریباً 1500روپے ڈیلی ویجز پر 3 جیل ملازمین کو بھرتی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ ملازمین جیلوں کے اندر قائم کیے جانے والے جیل پریزن اسٹورز پر خدمات انجام دیں گے، جہاں قیدیوں (اسیران) کے لیے مختلف اشیائے ضروریہ اور جیلوں کے اندر قائم صنعتی یونٹس میں تیار ہونے والی مصنوعات فروخت کی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق ان یونٹس میں تیار ہونے والی اشیاء کو اسیران کو رعایتی قیمت پر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی مارکیٹ میں بھی آرڈر پر تیار کر کے سپلائی کیا جائے گا۔ اس تمام عمل سے حاصل ہونے والی آمدن کو بظاہر قیدیوں کی مزدوری، ان کی فلاح و بہبود اور جیلوں میں بہتری کے منصوبوں پر خرچ کیا جانا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ان اسٹورز سے حاصل ہونے والی آمدن براہ راست آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر کو ارسال کی جائے گی۔تاہم اس اقدام کے ساتھ ہی کئی اہم سوالات اور خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ مختلف جیلوں سے موصول ہونے والی اطلاعات اور مبینہ چہ میگوئیوں کے مطابق سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا جیلوں میں پہلے سے تعینات ملازمین قابلِ اعتماد نہیں رہے کہ انہیں نظر انداز کر کے ڈیلی ویجز پر نئی بھرتیاں کی گئی ہیں؟مزید برآں یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ جیل حکام پہلے ہی جیلوں کے اندر ممنوعہ اشیاء کی ترسیل روکنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے، جس کے باعث سکیورٹی اور شفافیت پر سوالیہ نشان موجود ہے۔ ایسے میں ڈیلی ویجز ملازمین کی بھرتی سے نظم و ضبط اور نگرانی کے حوالے سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب جیل کنٹینوں کے وہ ٹھیکیدار، جو ماضی میں محکمہ جیل کے لیے آمدن کا ایک مستقل ذریعہ تصور کیے جاتے تھے، اس نئے نظام سے بظاہر متاثر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ جیل پریزن اسٹورز کے قیام کے بعد ان ٹھیکیداروں کو تاحال عملی طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے، جس پر ان میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق- اگرچہ اس اقدام کا بنیادی مقصد قیدیوں کی بحالی، ہنر مندی کے فروغ اور مالی خود کفالت کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے، تاہم اس کی شفافیت، نگرانی اور عملی افادیت کا اندازہ اس وقت ہی ہو سکے گا جب یہ اسٹورز مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے۔تاحال اس حوالے سے محکمہ جیل خانہ جات کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، جبکہ مختلف حلقے اس منصوبے کو ایک مثبت پیش رفت کے ساتھ ساتھ ممکنہ بدانتظامی کا نیا دروازہ بھی قرار دے رہے ہیں۔







