مہوش اغوا و نکاح کیس میں یوٹرن، نئے الزامات سےمعاملہ مزید سنگین

ڈیرہ غازیخان (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) مہوش اغوا اور متنازع نکاح کیس نے ایک بار پھر نیا اور چونکا دینے والا رخ اختیار کر لیا ہے، جس نے نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مہوش، جس نے کچھ عرصہ قبل ملتان ہائی کورٹ میں پیش ہو کر شاکر حجانہ کے حق میں بیان دیا تھا اور نکاح کو اپنی رضامندی سے تسلیم کیا تھا، اب اپنے ہی مؤقف سے مکمل طور پر منحرف ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق مہوش کئی ماہ تک مبینہ شوہر شاکر حجانہ کے گھر میں مقیم رہی، تاہم جیسے ہی شاکر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا، مہوش نے فوری طور پر گھر چھوڑ دیا اور اپنی والدہ کے پاس منتقل ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے کوٹ ادو کی فیملی کورٹ میں نکاح کی تنسیخ کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کر دی، جو اس کیس میں ایک اہم اور متنازع پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔حالیہ بیان میں مہوش نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسے اغوا کیا گیا تھا اور شدید خوف و دباؤ کے باعث اس نے عدالت میں شاکر کے حق میں بیان دیا۔ مزید برآں، مہوش نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ شاکر نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے اس کے حق میں بیان نہ دیا تو اس کے والد اور بھائی کو قتل کر دیا جائے گا۔ یہ الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں، جن کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔مہوش کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ شاکر حجانہ مبینہ طور پر دیگر جرائم میں بھی ملوث رہا ہے، جن میں ڈکیتی، چوری اور دیگر وارداتیں شامل ہونے کا کہا جا رہا ہے۔ تاہم ان الزامات کی تاحال سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے متضاد بیانات اور سنگین الزامات کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں اور شفاف تحقیقات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ا ٓئی جی پنجاب اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔یہ کیس اب محض ایک گھریلو تنازع نہیں رہا بلکہ قانون، سماج اور انصاف کے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں