ملتان (نمائندہ خصوصی، کرائم رپورٹر)ممتاز آباد کے علاقے کچی آبادی ریلوے پھاٹک میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ، جسے ابتدائی طور پر خودکشی قرار دیا جا رہا تھا، تحقیقات کے بعد مبینہ قتل کی واردات میں تبدیل ہو گیا۔ تھانہ ممتاز آباد میں درج ایف آئی آر نمبر 750/26 کے مطابق تین کمسن بچوں کے قتل اور والدہ کی ہلاکت کے معاملے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے۔پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ گزشتہ رات اس وقت پیش آیا جب ایک گھر سے چار افراددو جڑواں کمسن بچے فقیر حسین اور فقیر حسن، ایک شیر خوار بچی امِ حورین اور ان کی والدہ نگہت یاسمین عرف مریم—کی لاشیں پنکھے سے لٹکی ہوئی حالت میں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی طور پر اسے اجتماعی خودکشی قرار دیا گیا، تاہم بعد ازاں سامنے آنے والے شواہد اور مدعی کے بیان نے کیس کا رخ موڑ دیا۔ایف آئی آر کے مدعی اللہ دتہ ولد محمد اکرم، جو مقتولہ کا بھائی ہے، نے پولیس کو دیے گئے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ اس کی بہن نگہت یاسمین کی شادی 2023 میں مرتضیٰ نامی شخص سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد جڑواں بیٹے پیدا ہوئے جبکہ 2025 میں ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی۔ مدعی کے مطابق شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی میاں بیوی کے درمیان جھگڑے شروع ہو گئے تھے، جو وقت گزرنے کے ساتھ شدت اختیار کر گئے۔مدعی نے الزام عائد کیا کہ مقتولہ کا شوہر مرتضیٰ نہ صرف اسے سابقہ طلاق یافتہ ہونے کے طعنے دیتا تھا بلکہ اس پر تشدد بھی کرتا تھا۔ مزید برآں، مقتولہ کے جیٹھ اکبر ولد سید کرامت علی اور جٹھانی شگفتہ بی بی بھی مبینہ طور پر جھگڑوں میں شامل ہو کر اسے ہراساں کرتے اور گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دیتے تھے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق، 5 مئی 2026 کو دن کے وقت مقتولہ مریم نے ہمسایہ کے فون سے اپنے گھر والوں کو کال کی، جس میں اس نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس کا شوہر اس پر شدید تشدد کر رہا ہے اور اگر اسے کچھ ہو جائے تو اس کے بچوں کو سنبھال لیا جائے۔ اسی خدشے کے پیش نظر شام کے وقت مقتولہ کا بھائی آصف اکرم اس کی خیریت دریافت کرنے گھر پہنچا، جہاں اس نے کمرے میں داخل ہو کر بہن اور تینوں بچوں کی لاشیں پنکھے سے لٹکی ہوئی دیکھیں۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کیے۔ بعد ازاں مدعی کی درخواست پر شوہر مرتضیٰ ولد سید کرامت علی شاہ سمیت دیگر نامزد ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے، جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق مقتولہ مریم بی بی اور اس کا شوہر مرتضیٰ دونوں کی یہ دوسری شادی تھی، جس کے باعث گھریلو تنازعات مزید پیچیدہ ہو گئے تھے۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حتمی حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔شہر میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جبکہ سماجی حلقوں کی جانب سے گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے ۔
کچی آبادی میں قتل ہونیوالی خاتون اوربچوں کی نمازجنازہ ادا

ملتان(سپیشل رپورٹر) ممتاز آباد کچی ابادی کے رہائشی مرتضیٰ نے اپنی بیوی نریم۔بیٹی حورین فاطمہ اور بیٹے حسن ۔حسین کو قتل کردیا جن کی نماز جنازہ غوث پورہ پارک میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ قاری محمد رمضان نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب حاجی جاوید اختر انصاری۔ایم پی اے محمد ندیم قریشی ۔میاں محمود احمد انصاری۔محمد اکبر علی۔ منصوراحمد ودیگر سیاسی وسماجی شخصیات کے علاؤہ اہل علاقہ کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔







