سیاسی مداخلت، بہاولپور پولیس کا نظام کمزور، برخاست افسر دوبارہ بحال

بہاولپور ( کرائم سیل)پولیس کے نظام میں اندر کی کمزوریاں کھل کر سامنے آگئیں، جس نے محکمے میں سزا اور جزاء کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ پولیس محکمے میں ایک افسر جس کرپٹ اور راشی ملازم کو برخاست کرتا ہے، لیکن اس کے تبادلے کے بعد دوسرا افسر اسے بحال کر دیتا ہے۔ پھر، دوبارہ سیاسی سرپرستی کے تحت افسران کو مس گائیڈ کر کے مخصوص لابی اپنی پسند کے تھانے پر ایس ایچ او تعینات کرواتی ہے، اور یہ سارا عمل بحالی کے صرف 10 یوم کے اندر ہی مکمل کر لیا جاتا ہے۔اسی قسم کے نظام کی کمزوریوں کی ایک تازہ مثال اس وقت کھل کر سامنے آئی جب نومبر 2025 میں ایک سابقہ ایس ایچ او نے پانچویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے مقدمے کے بعد ملزم کو گرفتار کیا، لیکن نمبردار کے ساتھ مک مکا کیا اور پھر متاثرہ لڑکی کا نکاح ملزم اور ملزم کی بیٹی کا نکاح متاثرہ لڑکی کے بھائی کے ساتھ کروانے کی کوشش کی۔ میڈیا کی نشاندہی پر سابقہ ڈی پی او حسن اقبال نے سخت ایکشن لیا اور انکوائری کروائی۔ انکوائری میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تمام تر معاملات ثابت ہوئے، جس پر ڈی پی او نے ایس ایچ او کو سروس سے برخاست کیا۔تفتیشی کو جبری ریٹائر کیا اور محرر کو ریولڈ کیا مگر پھر وہی ایس ایچ او دوبارہ افسران کو غلط بیانی کر کے سیاسی سفارش پر بحال ہو جاتا ہے اور سیاسی ہی سفارش پر مخصوص لابی سے پسند کا تھانہ میں ایس ایچ او تعینات کروا دیتی ہے۔اس نظام نے عوامی و سماجی حلقوں میں شدید تحفظات پیدا کر دیے ہیں، جنہوں نے اس حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف پولیس کے اندرونی معاملات میں بدعنوانی کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے، بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح ہو رہا ہے۔یہ صورتحال پولیس محکمے کے سزا اور جزا کے نظام میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ اس سے نہ صرف افسران کی کارکردگی اور ان کی ذمہ داریوں میں گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ عوام میں پولیس کے بارے میں منفی تاثرات بھی بڑھ رہے ہیں۔سیاسی سرپرستی کا اثر واضح طور پر دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں افسران اپنی مخصوص لابی کے ذریعے اپنی تعیناتیاں اور ترقی حاصل کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی ذمہ داریاں سیاسی افکار اور ایجنڈے کے تحت مکمل کی جاتی ہیں، جس سے پولیس کا مقصد صرف عوام کی خدمت کی بجائے سیاسی مفادات کے حصول میں بدل جاتا ہے۔یہ معاملہ خصوصی طور پر اس وقت سامنے آتا ہے جب مخصوص لابی اپنے منتخب افسران کو ایس ایچ او کی پوزیشن پر تعینات کر دیتی ہے، جس سے عوام میں بے چینی اور عدم اعتماد بڑھتا ہے۔ یہ عمل محکمے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے اور عوام کے ساتھ پولیس کے تعلقات کو کمزور کرتا ہے۔

Bahawalpur Police

شیئر کریں

:مزید خبریں