لال سونہارا نیشنل پارک بد انتظامی کا شکار، قومی اثاثہ کھنڈر، سیاحوں کی آمد بند

بہاولپور(تحصیل رپورٹر) جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا اور تاریخی تفریحی مرکز لال سونہارا نیشنل پارک شدید بدانتظامی، غفلت اور مبینہ کرپشن کی نذر ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ پارک کی دیکھ بھال پر مامور عملہ اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر مبینہ طور پر افسران کے ذاتی گھروں میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے میں مصروف ہے، جس کے باعث کروڑوں روپے سے بننے والا یہ قومی اثاثہ کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگا۔ذرائع کے مطابق پارک میں سیاحوں کے لیے نصب جھولے، بینچز،پینے کے پانی کے کوئی انتظامات نہیں ہیں اور دیگر تفریحی سہولیات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ کئی جھولے مکمل طور پر ناکارہ ہو کر خطرناک صورت اختیار کر گئے ہیں، جس سے کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہونے کا خدشہ ہے واضح رہے کہ پچھلے سال بھی ایک کپل جوڑے کے ساتھ چند اوباش نوجوانوں کے گروہ نے لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی تھی۔موجودہ صورتحال میں بھی پارک کے مختلف حصوں میں گھاس کی کٹائی نہ ہونے کے برابر ہے اور جھاڑیاں بے قابو ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف آنے والے سیاحوں کو خطرہ ہے بلکہ سانپ اور دیگر خطرناک جانوروں کی موجودگی کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہےصفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے، جگہ جگہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، واش رومز ناقابل استعمال ہو چکے ہیں جبکہ پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی ناپید ہو چکی ہے۔ سیاحوں کی بڑی تعداد نے پارک کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے جس سے محکمہ کی آمدن میں بھی نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔سیاحوں اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ لال سونہارا نیشنل پارک جو کبھی بہاولپور کی پہچان اور سیاحت کا مرکز تھا، آج سرکاری غفلت اور ناقص انتظامیہ کی بدولت زوال کا شکار ہے۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری جنگلات اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور پارک کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس قومی ورثے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے اس سلسلہ میں بلاک افسر جب وجیہہ الحسن سے موقف لیا گیا تو اس نے کہا کہ چند روز میں پارک کی حالت بہتر ہو جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں