ایمرسن یونیورسٹی، ماہرین کی رائے نظر انداز، نااہل قرار اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی

ملتان (وقائع نگار) ایمرسن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر و اسٹیٹ آفیسر کی تعیناتی پر شدید قسم کے اعتراضات سامنے آئے ہیں، سبجیکٹ ایکسپرٹ کی جانب سے عمیر احمد کو نااہل قرار دینے کے باوجود بھرتی کر لیا گیا۔ ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں اسسٹنٹ پروفیسر واسٹیٹ آفیسر کی تعیناتی کو لے کر ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے، جہاں ذرائع نے بھرتی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے ابتدائی سلیکشن بورڈ اجلاس میں شعبہ شماریات کے ایکسپرٹ کے طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ شماریات کے چیئرمین پروفیسر امان اللہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے امیدوار ڈاکٹر عمیر کو اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔تاہم بعد ازاں، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر عمیر احمد کی تعیناتی مبینہ طور پر سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان گجر کے دور میں عمل میں لائی گئی، اس تعیناتی میں مبینہ طور پر بعض بااثر شخصیات کا کردار بھی سامنے آیا ہے۔ مزید الزامات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ آفیسر کی حیثیت سے تعیناتی کے بعد یونیورسٹی کے مختلف کلاس رومز میں دیار کی قیمتی لکڑی کے دروازے اور کھڑکیاں بغیر نیلامی کے فروخت کر دیں اور اسی طرح مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے بھی متعدد دعوے سامنے آئے ہیں کہ مبینہ طور پر صرف شیمپو اور قالین دھلوانے کے نام پر 18 لاکھ روپے کے بل پاس کیے گئے۔ تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ تعلیمی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں