ملتان(سپیشل رپورٹر)تعلیم کا مقصد شعور کی بیداری ہے یا محض ایک ڈگری کا حصول؟ ملتان کی مصروف ترین سڑک پر گزشتہ روز ہونے والے مناظر نے اس سوال کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ جہاں طالب علموں کا ایک ہجوم سڑکوں پر رقص کرتا، شور مچاتا اور اپنی ہی وردی کو رنگوں سے داغدار کرتا نظر آیا۔ جسے نوجوان ‘یادگار لمحہ قرار دے رہے ہیں، وہیں سماجی حلقے اسے اخلاقی پستی اور مستعار لیے گئے کلچر کی یلغار کہہ رہے ہیں۔ آخر ہماری نوجوان نسل کس سمت جا رہی ہے؟ ملتان کی مصروف ترین سڑک کچہری روڈ پر سول لائنز کالج کے باہر گزشتہ روز ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جس نے جہاں ایک طرف گزرنے والوں کی توجہ حاصل کی، وہی دوسری جانب شہر کے سنجیدہ اور سماجی حلقوں میں تشویش کی ایک لہر دوڑا دی۔ سول لائنز کالج کے باہر طالب علموں کا ایک بڑا ہجوم سڑک پر نکل آیا، جہاں رقص اور شور و غل نے ٹریفک کے نظام کو درہم برہم کر دیا۔ لیکن اس ہجوم میں سب سے نمایاں چیز ان طالب علموں کی سفید شرٹیں تھیں، جو رنگوں سے اٹی ہوئی تھیں اور ان پر جگہ جگہ مختلف عبارتیں لکھی ہوئی تھیں۔جب ان طالب علموں سے اس”منفرد” حلیے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کے چہروں پر موجود جوش اور شرارت نے بتایا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی روایت ہے۔ طالب علموں کا کہنا تھا کہ آج کالج میں ان کا آخری دن تھا، اور وہ اپنے اس سفر کے اختتام کو یادگار بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی سفید شرٹوں پر موجود وہ رنگ اور لکھائی دراصل ان کے دوستوں کے “آٹو گراف” اور الوداعی پیغامات تھے، جو ان کے بقول عمر بھر کے لیے ایک یادگار بن چکے ہیں۔ ان نوجوانوں کے لیے یہ خوشی منانے کا ایک جدید طریقہ ہے، جسے وہ “شرٹ سائننگ” (Shirt Signing) کا نام دیتے ہیں۔تاہم، اس بظاہر معصومانہ خوشی کے پیچھے چھپے سماجی اثرات نے ملتان کے شہریوں اور سماجی حلقوں کو ایک نئی بحث میں الجھا دیا ہے۔ شہر کے بزرگوں، ماہرینِ تعلیم اور مذہبی حلقوں نے اس صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ تعلیمی اداروں کا مقصد صرف ڈگری دینا نہیں بلکہ ایک باوقار شخصیت کی تعمیر کرنا بھی ہے۔ کیا پڑھ لکھ کر ہماری نوجوان نسل ان بے ہنگم اور مغربی کلچر کے مستعار لیے گئے طریقوں کو اپنا کر اپنی پہچان کھو رہی ہے؟ کیا ہماری اخلاقیات اور ہمارا دین ہمیں سڑکوں پر اس طرح رقص کرنے اور بے ہودہ شور مچانے کی اجازت دیتا ہے؟سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان دراصل “ثقافتی یلغار” کا نتیجہ ہے۔ ہم نے بغیر سوچے سمجھے مغرب سے وہ روایات مستعار لے لی ہیں جن کا ہماری مٹی اور اقدار سے کوئی تعلق نہیں۔ تعلیم کا مقصد انسان میں عاجزی اور متانت پیدا کرنا ہوتا ہے، لیکن سڑکوں پر ناچتے گاتے یہ طالب علم ایک ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے تعلیم سے آزادی پانا ہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ “آخری دن” کی خوشی نہیں بلکہ نظم و ضبط کی دھجیاں اڑانے کا ایک طریقہ بن چکا ہے۔اگر ہم اپنی اسلامی اور مشرقی روایات پر نظر ڈالیں، تو شاگرد اور استاد کا رشتہ احترام اور تقدس پر مبنی رہا ہے۔ قدیم دور میں جب کوئی طالب علم اپنی تعلیم مکمل کرتا تھا، تو وہ اپنے اساتذہ کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کرتا یا اپنے والدین کی دعائیں لیتا تھا۔ لیکن آج کا طالب علم اپنی تعلیمی زندگی کے اختتام پر سڑک کو بلاک کر کے رقص کرنا اور اپنی وردی (یونیفارم) کی بے حرمتی کرنا اپنی شان سمجھتا ہے۔ یونیفارم کسی بھی ادارے کی پہچان اور وقار کی علامت ہوتی ہے، اسے رنگوں اور قلم سے گندا کرنا دراصل اس ادارے اور اس نظم و ضبط کی توہین ہے جس کے سائے میں انہوں نے دو سال گزارے۔اس معاملے کا ایک اور پہلو والدین کی ذمہ داری بھی ہے۔ وہ والدین جو اپنے بچوں کی بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں اور انہیں ایک روشن مستقبل کے خواب دیکھ کر کالج بھیجتے ہیں، کیا وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ان کے بچے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کس راستے پر چل پڑے ہیں؟ کیا نوجوان نسل کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ خوشی منانے کا مطلب دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بننا نہیں ہے؟ سڑک پر ہونے والا یہ شور و غل راہگیروں، مریضوں اور ایمبولینسوں کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے، جو کسی بھی طور پر ایک پڑھے لکھے شہری کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔دوسری جانب، ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ نوجوانوں میں پایا جانے والا یہ ہیجان دراصل تعلیمی نظام کے دباؤ کا ردِ عمل بھی ہو سکتا ہے۔ مسلسل امتحانات، گریڈز کی دوڑ اور سماجی دباؤ سے نکلنے کے بعد وہ اس طرح کی سرگرمیوں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تفریح کا کوئی مثبت اور تعمیری راستہ موجود نہیں ہے؟ کیا کالج کی انتظامیہ اس “آخری دن” کو کسی ادبی مشاعرے، اسپورٹس گالا یا الوداعی تقریب کی صورت میں منظم نہیں کر سکتی تھی تاکہ طالب علموں کی توانائی کو مثبت سمت دی جا سکے؟ملتان کے سماجی حلقوں نے حکامِ بالا اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بے ہنگم کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ کالجوں کے اندر ایسی اخلاقی تربیت کا انتظام ہونا چاہیے جو طالب علموں کو یہ سمجھا سکے کہ جدیدیت کا مطلب اپنی روایات کو پامال کرنا نہیں ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آٹو گراف کاغذوں پر لیے جاتے ہیں، کردار پر نہیں۔ دوستوں کی یادیں دلوں میں محفوظ کی جاتی ہیں، وردیوں کو گندا کر کے نہیں۔







