جامعہ زکریا کرپشن نیٹ ورک توڑنے پر سیاسی بھرتی ،عملہ وی سی کی جان کا دشمن ،دھمکیاں

جامعہ زکریا کی سکیورٹی ناقص، چوری کی وارداتیں عام، اساتذہ سراپا احتجاج

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف فزکس میں نئے تعینات ہونے والے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم انجم کی تعیناتی کے فوراً بعد سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں مبینہ طور پر چوری کی وارداتوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تازہ ترین واقعہ میں ایم فل کلاس روم سے دو ایئر کنڈیشنرز چوری کر لیے گئے، جس پر ڈاکٹر محمد احسان مظہر (ایم فل پروگرام کوآرڈینیٹر) نے باقاعدہ تحریری شکایت درج کرواتے ہوئے اسے ادارے کی سکیورٹی ناکامی قرار دیا ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے واضح کیا کہ محدود وسائل کے باوجود کلاس روم کو ملٹی میڈیا اور دیگر سہولیات سے آراستہ کیا گیا تھا، مگر اس واقعہ نے نہ صرف ان سہولیات کو خطرے میں ڈال دیا بلکہ انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ادارے کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ حالیہ دنوں میں چوری کی متعدد وارداتیں سامنے آ چکی ہیں، جنہوں نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے کہ یونیورسٹی کے سکیورٹی آفیسر اور آر او ڈاکٹر مقرب اکبر کی انتظامی گرفت کمزور ہو چکی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اتنے بڑے تعلیمی ادارے میں جدید سکیورٹی سسٹم کی موجودگی کے باوجود قیمتی سامان کا یوں غائب ہو جانا تشویشناک ہے۔ یونیورسٹی ٹیچرز کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ کی ترجیحات اور نگرانی کے نظام میں واضح خامیاں موجود ہیں۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا ڈائریکٹر کی تعیناتی کے بعد سکیورٹی معاملات کو نظر انداز کیا گیا؟ یا پھر یہ کسی منظم غفلت یا اندرونی ملی بھگت کا نتیجہ ہے؟ مزید برآں، اس واقعے نے یونیورسٹی کی مجموعی گورننس پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں اساتذہ اور طلبہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سخت انتظامی اقدامات، شفاف انکوائری اور سکیورٹی نظام کی ازسرنو تشکیل نہ کی گئی تو ایسے واقعات نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کریں گے بلکہ ادارے کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچائیں گے۔ متاثرہ فیکلٹی نے وائس چانسلر اور ڈین فیکلٹی آف سائنس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری تحقیقات کر کے ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی نئی ٹریکٹر ٹرالیاں ، ٹرانسفارمرز، سی سی ٹی وی کیمرے، کیمروں کی تاریں، دن کے اوقات میں پروفیسرز کی گاڑیوں کے ٹائر چوری ہونے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ مگر چیف سیکورٹی آفیسر اور آر او سے کسی قسم کی باز پرس نہیں کی جاتی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں