ملتان (سٹاف رپورٹر) انسانی حقوق کے علمبردار ادارے ہیومن رائٹس پروٹیکشن نیٹ ورک کی جانب سے ایک نہایت اہم اور “ٹائم لمٹ کیس” کے تحت دی گئی درخواست نے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ درخواست میں آرٹیکل 19-A کے تحت ویمن یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ سے تفصیلی معلومات طلب کی گئی ہیں، مگر ذرائع کے مطابق عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کی خاموشی نے کئی سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ یہ درخواست براہِ راست وائس چانسلر کے نام ارسال کی گئی، جس میں شفافیت، احتساب اور عوام کے حقِ معلومات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن حیران کن طور پر عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کی جانب سے تاحال کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا — جسے ڈاکٹر دیبا شہوار کی جانب سے اپنی سابقہ محسن، تین تاریخ پیدائش رکھنے والی، جعلی تجربے کے سرٹیفکیٹ اور سیرت کانفرنس کے پیسے اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منگوانے والی سابقہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے کرپشن معاملات پر “انتظامی پردہ پوشی” قرار دیا جا رہا ہے۔ درخواست میں درج نکات نہایت سنجیدہ نوعیت کے ہیں: پبلک انفارمیشن آفیسر کی تفصیلات: یونیورسٹی میں معلومات تک رسائی کے ذمہ دار افسر کا نام، عہدہ، رابطہ نمبر اور دفتر کا پتہ مانگا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبے (Development Works): مالی سال 2024-25 اور 2025-26 میں مکمل ہونے والے منصوبوں کی مکمل تفصیل، لاگت اور تکمیل کی تاریخ طلب کی گئی ہے۔ خریداری اور ٹھیکے (Procurement & Purchases): اربوں روپے کی ممکنہ خریداریوں، ٹینڈرز اور کنٹریکٹس کی شفاف تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ بجٹ کی تفصیل: منظور شدہ بجٹ، اس کے استعمال اور مد وار اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ آر ٹی آئی درخواستوں کا ریکارڈ: پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت موصول اور نمٹائی گئی درخواستوں کا مکمل ڈیٹا مانگا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں، تو معلومات فراہم کرنے میں تاخیر کیوں؟ ماہرین کے مطابق، آرٹیکل 19-A ہر شہری کو معلومات تک رسائی کا بنیادی حق دیتا ہے، اور اس سے انکار یا تاخیر خود قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ درخواست میں بالواسطہ طور پر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ترقیاتی کاموں، خریداریوں اور بجٹ کے استعمال میں سنگین بے ضابطگیاں ہو سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ معاملہ نہ صرف انتظامی بلکہ قانونی کارروائی کا بھی متقاضی بن سکتا ہے۔ اس اہم درخواست کی نقول مختلف اداروں کو بھی ارسال کی گئی ہیں، جن میں اینٹی کرپشن اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہیں، تاکہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ خاموشی اختیار کرے تو معاملہ مزید اوپر تک لے جایا جا سکے۔ یہ معاملہ صرف ایک درخواست نہیں بلکہ پورے نظامِ تعلیم میں شفافیت، احتساب اور قانون کی عملداری کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر ادارے خود قانون کی پاسداری نہ کریں تو عوام کا اعتماد کیسے بحال ہوگا؟ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ ویمن یونیورسٹی ملتان کی عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار اس “سب سے اہم” کیس پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔ خاموشی یا سچ؟
Women University Multan







