بہاولپور: رجسٹری برانچ میں کروڑوں کی کرپشن، کلرک نے تمام معاملات سنبھال لیے

ملتان(اشرف سعیدی سے ) جنوبی پنجاب کہ دیگر اضلاع اور تحصیلوں کی طرح بہاولپور رجسڑی برانچ میں بھی کڑوڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف رجسٹری برانچ کا دارومدار سالہاسال سے ایک ہی کلرک جو ہر نئے آنے والے تحصیلدار کے جملہ معا ملات سنبھالتا ہے اس وقت بھی دو تحصیلدار امجد عطاء تحصیل صدر اور وسیم کیفی تحصیل سٹی کے تمام معاملات ڈرائیور سے کلرک بننے والے ملازم نوازش کے سپرد جعلی ایف بی آر چلان، پٹواریوں کی رپورٹ میں ہیرا پھیری سمیت بغیر موقع ملاحظہ، بغیر کنڈونیشن فیس جبکہ اربن اور جدید اربن کو سکنی شیڈول لگا کر رجسٹریاں پاس کرنے کے سینکڑوں کیسز منظر عام پر آ چکے ہیں ۔رجسٹریوں کی منظوری کے عمل میں مبینہ طور پر باقاعدہ “ریٹ لسٹ” رائج ہے، جس کے تحت فائل کی نوعیت، اراضی کی لوکیشن اور مالیت کے مطابق غیر قانونی وصولیاں کی جاتی ہیں۔ الزام ہے کہ سرکاری فیس کے علاوہ شہریوں سے اسی کے برابر یا اس سے زائد درباری فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ ادائیگی نہ کرنے والوں کی فائلیں مختلف اعتراضات لگا کر روک دی جاتی ہیں یا انہیں طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایف بی آر کے جعلی یا ٹیمپرڈ چالان استعمال کرنے پٹواریوں کی رپورٹس میں ردوبدل کرنے اور کنڈونیشن فیس اور موقع ملاحظہ کے بغیر ہی فائلوں کو کلیئر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض کیسز میں زرعی اراضی کو سکنی ظاہر کرکے یا اربن/جدید اربن اراضی کو کم ریٹ والے شیڈول میں ڈال کر سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 1954 سے مختلف چکوک میں کنڈونیشن فیس لاگو ہیں لیکن ہزاروں کی تعداد میں ایسی رجسٹریاں موجود ہیں جن کی کنڈونیشن فیس نہیں بھری گئی ہے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے پٹہ ملکیت لگاکر کنڈونیشن فیس بچالی جاتی ہیں ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کے لیے مخصوص افراد تعینات ہیں جو نقشہ جات اور فردات میں تبدیلیاں کر کے فائلوں کو “قابلِ منظوری بناتے ہیں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رجسٹری محرر نے ایک ایسا رجسٹرڈ بھی رکھا ہوا ہے جس میں باقاعدہ منتھلی وصول کرنے والوں کے نام شامل ہیں۔شہری حلقوں کے مطابق اس پورے عمل میں پٹواریوں، وثیقہ نویسوں، پراپرٹی ڈیلرز اور بعض دفتری اہلکاروں پر مشتمل ایک مبینہ نیٹ ورک سرگرم ہے، جو نہ صرف رجسٹریوں کی رفتار تیز کرتا ہے بلکہ متنازعہ یا نامکمل دستاویزات کو بھی کلیئر کرواتا ہے۔سماجی حلقوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ شکایات کے باوجود خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ بعض افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اضافی ادائیگی کے بغیر اپنی رجسٹری مکمل نہیں کروا سکے۔اگر اس طرز عمل کی فوری روک تھام نہ کی گئی تو نہ صرف قومی خزانے کو مزید نقصان ہوگا بلکہ جائیدادوں کے تنازعات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔شہری و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری، بورڈ آف ریونیو اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا ہےج کہ معاملے کی اعلیٰ سطحی، غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے، متعلقہ ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کیا جائے تو ہزاروں کی تعداد میں، اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ رجسٹری نظام میں شفافیت بحال ہو سکے۔ دیگر اضلاع کی طرح بہاولپور رجسٹری برانچ کے تمام تر معاملات بھی واٹس ایپ پر چلتے ہیں اور جن رجسٹریوں کا ٹاؤٹ واٹس ایپ پر میسج کر دیتے ہیں وہ پاس ہو جاتے ہیں کیونکہ رشوت کے تمام تر وصولیاں ٹاؤٹ کرتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں