ملتان (جنرل رپورٹر)پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بغیر لائسنس ڈراموں کی نمائش کرنے والے 7 بڑے تھیٹرز کو سیل کر کے ان پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ کارروائی طویل عرصے سے جاری لائسنسنگ قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک اہم اقدام ہے، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ کریک ڈاؤن محض ایک بار کی کارروائی ہے یا مستقبل میں بھی اس طرح کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مستقل پالیسی بنائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق مذکورہ تھیٹرز کو متعلقہ سرکاری محکموں سے این او سی حاصل کرنے اور ہوم ڈیپارٹمنٹ سے باقاعدہ لائسنس کے اجراء کے لیے تین ماہ کی طویل مہلت دی گئی تھی، تاہم مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود انتظامیہ لائسنس حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ تھیٹرز تین ماہ قبل ہی غیر قانونی پائے گئے تھے تو انہیں مزید تین ماہ کام کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ یہ حکومتی طرز عمل خود اپنے قوانین کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔کارروائی کے دوران جن تھیٹرز کو سیل کیا گیا ہے ان میں میلوڈی تھیٹر (خانیوال)، فانوس تھیٹر (صادق آباد)، محفل آڈیٹوریم (لودھراں)، چوہدری تھیٹر (میاں چنوں)، محفل تھیٹر (بورے والا)، نگینہ تھیٹر (شیخوپورہ) اور خان محل تھیٹر (علی پور) شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ تمام تھیٹرز چھوٹے شہروں میں واقع ہیں، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے شہروں میں اس طرح کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا ان شہروں میں قانون کی گرفت مضبوط نہیں ہے۔حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ان تھیٹرز میں نہ صرف لائسنس کی قانونی پیچیدگیاں تھیں بلکہ یہ ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑانے میں بھی ملوث پائے گئے۔ ان تھیٹرز میں سکرپٹ کی منظوری کے بغیر ڈرامے پیش کیے جا رہے تھے جو کہ طے شدہ قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ادارے کو بغیر این او سی اور غیر قانونی طریقے سے ڈراموں کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ تاہم تنقید یہ ہے کہ محض سیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک کہ لائسنسنگ کا نظام خود شفاف اور تیز رفتار نہ بنا دیا جائے۔ ورنہ یہ تھیٹرز مستقبل میں کسی اور نام سے دوبارہ کھل سکتے ہیں اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری رہیں گی۔







