ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی

تازہ ترین

پنجاب اسمبلی کمیٹی میں جامعہ اسلامیہ سنڈیکیٹ معاملات کی گونج، شفافیت اور اختیار پر سوال

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب اسمبلی کی ایجوکیشن سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں اس وقت غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب کمیٹی کے چیئرمین امجد علی جاوید نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی انتظامیہ اور خصوصاً سنڈیکیٹ کے نظام پر کھل کر سخت اور بے لاگ تنقید کی۔ اجلاس کا ماحول تلخ مگر حقیقت پسندانہ جملوں سے گونج اٹھا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین نے نہ صرف یونیورسٹی انتظامیہ کو’’کلاس‘‘ دی بلکہ سنڈیکیٹ کے کردار پر ایسے سوالات اٹھائے جنہوں نے پورے نظام کی شفافیت اور خودمختاری پر سنگین خدشات کھڑے کر دیئے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ سنڈیکیٹ جیسے اعلیٰ فورم جو اداروں میں شفاف فیصلوں اور آزادانہ رائے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں، بدقسمتی سے اپنی اصل روح کھو چکے ہیں۔ چیئرمین کا کہنا تھا کہ عملی طور پر سنڈیکیٹ ممبران کی بڑی تعداد آزادانہ فیصلے کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے دو سالہ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اکثر ممبران اجلاسوں میں اپنی رائے دیتے ہوئے وائس چانسلر کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر اسی سمت ووٹ دیتے ہیں جدھر انتظامیہ کا جھکاؤ ہوتا ہے۔ ان کے بقول یہ رویہ ادارہ جاتی دیانتداری کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنڈیکیٹ ممبران پس پردہ خود اس نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں مگر جب ووٹنگ کا مرحلہ آتا ہے تو وہی افراد انتظامیہ کے مؤقف کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔’’باہر جا کر کہتے ہیں کہ ہمیں نوکری کرنی ہے، ہم کیا کریں‘‘، چیئرمین نے اس جملے کو دہراتے ہوئے اسے ایک المیہ قرار دیا۔ چیئرمین نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بعض ممبران کو اجلاس سے قبل فون کالز کے ذریعے ہدایات دی جاتی ہیں کہ کس معاملے پر کیا مؤقف اختیار کرنا ہے اور کس پر خاموش رہنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سنڈیکیٹ کی افادیت محض رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے حالات میں ایک خطرناک سوچ جنم لے رہی ہے کہ شاید سنڈیکیٹ کے اختیارات محدود کر دیے جائیں یا چیئرمین کے اختیارات میں رد و بدل کیا جائے جو کہ خود اداروں کی خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل مسئلہ اختیارات نہیں بلکہ ان کے استعمال میں دیانت اور آزادی کی کمی ہے۔ اجلاس میں موجود اراکین اس کھلی تنقید پر خاموشی اختیار کیے رہےجبکہ بعض حلقوں نے اسے تعلیمی اداروں میں اصلاحات کی جانب ایک اہم اور جراتمند قدم قرار دیا۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر چیئرمین کی نشاندہی کردہ خامیوں پر فوری توجہ نہ دی گئی تو نہ صرف یونیورسٹیوں کا نظم و نسق متاثر ہوگا بلکہ اعلیٰ تعلیم کے معیار پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں