سپریم کورٹ کا دو ٹوک فیصلہ، چھوٹو گینگ کو کوئی رعایت نہ ملی، 6، 6 بار سزائے موت برقرار

ملتان،راجن پور( کورٹ رپورٹر،ڈپٹی بیورو چیف) بدنام زمانہ ڈاکو چھوٹو گینگ کی اپیل خارج، غلام رسول عرف چھوٹو سمیت 3 ملزمان کی 6،6 بار سزائے موت برقرار۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت 3 ملزمان کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں خارج کر دیں۔ عدالت عظمیٰ نے انسداد دہشت گردی عدالت اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے تینوں ملزمان کو 6۔6 بارسزائے موت دینے کا حکم برقرار رکھا ہے۔واضح رہے کہ آج سے دس سال قبل اپریل 2016ء میں ضلع راجن پور کے کچے کے علاقے میں بدنام زمانہ ڈاکو غلام رسول عرف چھوٹو کی سربراہی میں چھوٹو گینگ نے کچے کے علاقے میں آپریشن کے دوران 24 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ مذاکرات کے دوران ملزمان نے انتہائی بے دردی سے 6 پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا تھا۔اس واقعے کے بعد پاک فوج اور پولیس نے مشترکہ آپریشن ضرب آہن شروع کیا۔ کئی دنوں کے محاصرے اور شدید مقابلے کے بعد چھوٹو گینگ نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اس آپریشن میں غلام رسول عرف چھوٹو سمیت 18 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے 2019ء میں غلام رسول عرف چھوٹو، نادر عرف نادرا اور خالد عرف کھلو کو 6۔6 پولیس اہلکاروں کے قتل، اغوا اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت 6۔6 بار سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے 2022ء میں ملزمان کی اپیلیں خارج کر کے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔سپریم کورٹ میں ملزمان نے سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔گزشتہ روز جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کے بعد اپیلیں خارج کر دیں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بہیمانہ طریقے سے شہید کیا۔ ریکارڈ پر موجود شواہد، گواہان کے بیانات اور اعترافی بیانات سے جرم ثابت ہوتا ہے۔ ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔فیصلے کے بعد شہید پولیس اہلکاروں کے ورثا نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیا۔ شہید اہلکار کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ8 سال بعد آج ہمیں انصاف ملا ہے۔ ہمارے جوانوں کا خون رائیگاں نہیں گیا۔جبکہ آئی جی پنجاب رائوعبدالکریم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پولیس فورس کے مورال کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے جوانوں پر حملہ ریاست پر حملہ ہے اور ایسے عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے۔واضح رہے کہ چھوٹو گینگ 2007ء سے جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقے میں قتل، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ چھوٹو گینگ کچے میں خوف اور دہشت کی علامت بنا ہواتھا۔ 2016ء کے ایک بڑے آپریشن کے بعد چھوٹو گینگ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیئے گینگ علاقے میں’’بادشاہ‘‘بن چکا تھا۔اس گینگ کی کارروائیوں کے باعث پولیس سٹیشن تک بند کرنا پڑے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں