اس عنوان کے تحت لکھے گئے کالموں کی سیریز میںگزشتہ قسط کےذریعے جامعات میں ترقی کے غیر منصفانہ نظام اور میرٹ کی پامالی جیسے اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مگر اگر ہم اس بحران کی گہرائی میں جائیں تو ایک اور نہایت بنیادی اور فیصلہ کن خرابی سامنے آتی ہے اور وہ قومی سطح پر تعلیمی سمت کا فقدان اور نصاب کی غیر معیاری تشکیل ہے۔
ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم کے ادارے بڑی حد تک اپنی مرضی سے نصاب تشکیل دیتے ہیں جس کے باعث نہ صرف یکسانیت کا فقدان پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ نصاب کسی بھی طور پر عالمی تقاضوں اور صنعتی ضروریات سے بھی ہم آہنگ نہیں ہوتا، نتیجتاً جامعات سے فارغ التحصیل طلبہ عملی میدان میں مطلوبہ مہارتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، معیشت، اور صنعتی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں نے تعلیم کے تقاضوں کو بھی یکسر بدل دیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ پاکستان کا اعلیٰ تعلیمی نظام بھی ان عالمی رجحانات کے مطابق خود کو ڈھالے۔ اس ضمن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا نظام تعلیم ایک واضح اور مربوط قومی تعلیمی سمت کا تعین کرے، جو بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہو۔ نصاب کو اس انداز میں ازسر نو ڈیزائن کیا جائے کہ وہ نہ صرف عالمی معیار پر پورا اترے بلکہ مقامی صنعتی کی ضروریات سے بھی ہم آہنگ ہو۔
تعلیم کو صرف نظریاتی دائرے تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور تجرباتی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ طلبہ کو محض کتابی علم دینے کے بجائے انہیں حقیقی مسائل کے حل، انٹرن شپس اور بین الشعبہ جاتی سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ عملی میدان میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
اس مقصد کے لیے ایک مضبوط اور بااختیار نصاب بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیےجس میں ملکی اور غیر ملکی ماہرین تعلیم، صنعت سے وابستہ پروفیشنلز، انٹرنیشنل اور دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے تجربہ کار اکیڈمیشنز شامل ہوں۔ یہ بورڈ نہ صرف نصاب کی تیاری کرے بلکہ اس کے مؤثر نفاذ کو بھی یقینی بنائے تاکہ جامعات کو مکمل طور پر اپنی صوابدید پر چھوڑنے کے بجائے ایک متوازن اور معیاری نظام قائم کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ نصاب کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور اسے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جائے۔ اس عمل میں انڈسٹری کے ماہرین اور اکیڈمک کونسلز کو شامل کیا جائے تاکہ تعلیم اور عملی دنیا کے درمیان موجود خلا کو پر کیا جا سکے۔
بدقسمتی سے موجودہ نظام میں نصاب کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے نہ تو کوئی واضح سمت موجود ہے اور نہ ہی مؤثر نگرانی کا نظام۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری جامعات عالمی سطح پر مسابقت میں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں اور ہمارے گریجویٹس کو روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم نے اس بنیادی مسئلے کو حل نہ کیا تو محض انتظامی اصلاحات یا ترقی کے نظام میں تبدیلی سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ایک مضبوط، جدید، اور عالمی معیار کے مطابق نصاب ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک کامیاب تعلیمی نظام قائم ہو سکتا ہے۔
یہاں متعلقہ حکومتی اداروں سے بھی سوال ہے کہ آیا ہم اپنی جامعات کو واقعی عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے سنجیدہ بھی ہیں، یا پھر انہیں بدستور ایک بے سمت اور غیر مربوط نظام کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھنا ہے؟







