امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر ممکنہ حملے روک دیے گئے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق پاکستانی قیادت نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران پر کارروائی نہ کی جائے اور ایرانی قیادت کی جانب سے متفقہ تجاویز آنے تک تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسی درخواست کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جائے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جا رہی ہے جب تک ایران کی جانب سے باضابطہ تجاویز پیش نہیں کی جاتیں اور مذاکراتی عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے اپنی فوج کو ہائی الرٹ رہنے اور ہر صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے امریکی صدر کے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف جاری اقدامات دراصل جارحیت کے مترادف ہیں اور اس کا جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا۔







