ملتان (سٹاف رپورٹر) انڈر ویلیو اور بغیر ایف بی آر ٹیکس رجسٹریاں پاس کروانے کے ماہر تحصیلدار آصف مشتاق نے سٹی سرکل سے اپنی ٹرانسفر تحصیل صدر میں کروا لی اور اس ٹرانسفر کے لیے ملک علی رضا، صفدر وثیقہ نویس، سلیم فراز، حافظ دانیال کلرک ڈی سی آفس، اسد ارسلان کلرک ڈی سی آفس اور انصر کلرک ڈی سی آفس ایک گروپ بنا کر لاہور گئے اور آصف مشتاق کے ٹرانسفر آرڈر لے کر واپس آئے جو کل بروز سوموار اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ یاد رہے کہ آصف مشتاق کے حوالے سے روزنامہ قوم میں خبر شائع ہوئی تھی کہ انہوں نے ٹمبر مارکیٹ کے سات کروڑ روپے مالیت کے گودام کی رجسٹری صرف 23 لاکھ 50 ہزار روپے میں پاس کی اور حکومت پنجاب کو محض اس ایک رجسٹری میں 80 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا جس پر فوری طور پر اے ڈی سی آر نے مذکورہ رجسٹری کو بلاک کر دیا جس کے بعد میں خریدار پارٹی کو 80 لاکھ روپیہ فیس کی مد میں مزید جمع کروانا پڑا تو رجسٹری ان بلاک کی گئی۔ اس حالیہ تبادلے نے ایک مرتبہ پھر اس شک کو مزید تقویت دے دی ہے کہ اب بھی پرائیویٹ مافیا، رجسٹری محررز اور ڈی سی آفس کے کلیریکل سٹاف کا کارٹل لاہور میں بورڈ آف ریونیو میں اپنا خصوصی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور ملتان میں بھی ان کے شکنجے سے رجسٹری برانچ ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود آزاد نہیں ہو سکی۔ بتایا گیا ہے کہ جو معاملات طے پائے ہیں اس میں آصف مشتاق کے پاس سٹی کا خدمت سنٹر کا بھی اضافی چارج رہے گا۔ اس طرح پورا ضلع ملتان جس میں تحصیل شجا ع آباد اور تحصیل جلال پور بھی شامل ہیں، اب ان کی دسترس میں ہو گی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آصف مشتاق کی ٹمبر مارکیٹ کی انڈر ویلیو رجسٹری پکڑے جانے کے بعد ان کے خلاف کارروائی رکوا دی گئی تھی اور اب انہیں مزید اختیارات سے نواز دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ای خدمت مرکز کا چارج دلوانے میں بھی ایک پٹواری کا نمایاں ہاتھ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ نوجوان پٹواری انتظامیہ میں اتنا مقبول ہے کہ اسے ملتان کے دو سب سے بڑے سرکلز کا بیک وقت چارج دے دیا گیا ہے۔







