ملتان(وقائع نگار)لوکل گورنمنٹ محکمے میں مبینہ بڑی بدعنوانی کا انکشاف ہواہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر ذوالقرنین حیدر نے ڈی جی کے واضح احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے دست راست سیکرٹری عثمان فاروق کو 6 یونین کونسلوں کا چارج دے دیا ۔شہریوں سے برتھ، ڈیتھ، میرج اور طلاق سرٹیفکیٹس کی فیس ختم ہونے کے باوجود ہزاروں روپے وصول کرنے کا الزام، لوکل گورنمنٹ ملتان کے افسران کی مبینہ بدعنوانی ایک بار پھر شہریوں میں شدید غم و غصے کا باعث بن گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ملتان ذوالقرنین حیدر نے ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ کے واضح احکامات کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے ایک ہی شخص کو 6 یونین کونسلوں کا چارج تھما دیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ڈی جی لوکل گورنمنٹ نے احکامات جاری کیے تھے کہ کسی بھی سیکرٹری کو دو یونین کونسلوں سے زیادہ کا چارج نہیں دیا جائے گا۔ تاہم ڈپٹی ڈائریکٹر ذوالقرنین حیدر نے اپنے قریبی اور دست راست سمجھے جانے والے سیکرٹری یونین کونسل عثمان فاروق کو یونین کونسل نمبر 67، 64، 86، 5، 13 سمیت مجموعی طور پر 6 یونین کونسلوں کا چارج دے رکھا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف محکمے کے اندرونی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ شہریوں کے کاموں میں تاخیر اور بدعنوانی کے الزامات کو بھی جنم دے رہا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے برتھ، ڈیتھ، میرج اور طلاق سرٹیفکیٹس کی فیس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان ہو چکا ہے، مگر عثمان فاروق مبینہ طور پر اب بھی ان سرٹیفکیٹس بنانے کے بدلے شہریوں سے ہزاروں روپے وصول کر رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فیس نہ دینے والے شہریوں کو دفتر کے چکر لگاتے لگاتے کئی دن گزارنے پڑتے ہیں۔ کئی شہریوں نے اس سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ملتان کو تحریری اور زبانی شکایات بھی کی ہیں، مگر مبینہ طور پر عثمان فاروق ڈپٹی ڈائریکٹر کی ”آنکھوں کا تارا“ ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ”ایک طرف حکومت عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ کر رہی ہے، دوسری طرف محکمے کے اندر بیٹھے افسران اپنے ذاتی مفادات کے لیے عوام کا خون چوس رہے ہیں۔“ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس مبینہ کرپشن کا نوٹس لیا جائے اور ذوالقرنین حیدر اور عثمان فاروق کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ متعلقہ محکمے کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ ”اس معاملے کی انکوائری کے لیے ڈی جی آفس کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔“شہریوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور لوکل گورنمنٹ سیکرٹری پنجاب اس مبینہ بڑے اسکینڈل کا نوٹس لیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف فوری ایکشن لیں تاکہ محکمے میں شفافیت بحال ہو اور عوام کو ریلیف مل سکے۔







