ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کی جانب سے یونیورسٹی کو عالمی تحقیقی معیار کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے جب یونیورسٹی کے ایک ٹیچر کی جانب سے شکایت کی گئی کہ اساتذہ اور طلبہ کو عالمی معیار کے تحقیقی جرائد تک رسائی ہی میسر نہیں جس کے باعث تعلیمی و تحقیقی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ متعلقہ استاد نے انکشاف کیا کہ’’میں ایک انتہائی سنجیدہ مسئلے کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں جو ہماری تحقیق کو متاثر کر رہا ہے۔ دنیا کے معتبر جرائدخاص طور پر Elsevier کے جرنلز (ScienceDirect کے ذریعے) تک رسائی محدود ہے جس سے اساتذہ اور طلبہ کی علمی ترقی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ASA کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھائے کیونکہ اس سے نہ صرف تحقیق متاثر ہو رہی ہے بلکہ یونیورسٹی کی رینکنگ بھی خطرے میں ہے۔‘‘انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو فوری بنیادوں پر حل کیا جائے۔ مزید حیران کن طور پر استاد نے دوسرے مرحلے میں ٹھوس ثبوت پیش کرتے ہوئے ScienceDirect ویب سائٹ کا لنک دکھایا، جہاں واضح طور پر درج ہے: “Bahauddin Zakariya University does not subscribe to this content on ScienceDirect” — یعنی یونیورسٹی کے پاس اس اہم ترین عالمی تحقیقی پلیٹ فارم کی سبسکرپشن ہی موجود نہیں۔ اس انکشاف نے وائس چانسلر کے ان تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی جن میں یونیورسٹی کو تحقیق کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھانے کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ کوئی نیا نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے سے وائس چانسلر کو دو ہفتے قبل ہی آگاہ کیا جا چکا تھا۔ ASA کی جانب سے باقاعدہ طور پر یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا گیا تاہم تاحال کوئی عملی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ یونیورسٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کی ترجیحات تحقیق اور تعلیمی بہتری کے بجائے سوشل میڈیا اور فیس بک سرگرمیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں جس کے باعث ادارے کی ساکھ اور کارکردگی مسلسل زوال کا شکار ہے۔ تعلیمی ماہرین نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر عالمی تحقیقی جرائد تک رسائی بحال نہ کی گئی تو نہ صرف یونیورسٹی کی عالمی رینکنگ مزید گر سکتی ہے بلکہ اساتذہ اور طلبہ کا مستقبل بھی شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔







