گندم خریداری: کسان پھر رل گئے، پنجاب میں “سرمایہ نجی، کنٹرول سرکاری” ماڈل پر تحفظات

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر میں گندم خریداری کے بحران میں حکومتی بے حسی، پالیسیوں کے فقدان اور مبینہ انتظامی نااہلی نے رواں سال کی فصل کو ابتدائی مرحلے میں ہی خریداری کے حوالے سے شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ کسان حکومتی اقدامات کی راہ دیکھ رہے ہیں مگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں بدستور عملی اقدامات کے بجائے کاغذی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ کی گندم کو منڈیوں میں آئے ایک ماہ سے زائد بلکہ تقریباً 40 دن گزر چکے ہیںمگر تاحال بڑے پیمانے پر سرکاری خریداری شروع نہیں ہو سکی۔ نتیجتاً گندم منڈیوں میں دھکے کھا رہی ہے اور کاشتکار اپنی محنت کی کمائی اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ ادھر پنجاب میں بھی صورتحال مختلف نہیں، جہاں گزشتہ تین ہفتوں سے گندم منڈیوں میں موجود ہے مگر حکومتی پالیسی کی غیر یقینی کیفیت نے قیمتوں کو زمین بوس کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 3500 روپے فی من کا سرکاری نرخ محض کاغذی دعویٰ ثابت ہو رہا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق کھیتوں میں بیوپاری گندم 3000 روپے فی من یا اس سے بھی کم قیمت پر خرید رہے ہیںجبکہ منڈیوں میں نرخ 3200 سے 3250 روپے کے درمیان معلق ہیں اور مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کسان اپنی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں کر سکے گا، جس سے زرعی معیشت کو شدید دھچکا لگے گا۔ سندھ میں محکمہ خوراک کے بلند و بانگ دعوے تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکےجبکہ پنجاب حکومت نے ایک متنازع حکمت عملی کے تحت 11 نجی کمپنیوں کو گندم خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم اس پالیسی سے نجی شعبے کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ ان نجی کمپنیوں / اداروں میں بوٹا برادرز فلور اینڈ جنرل ملز، ال عمران فلور اینڈ جنرل ملز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، حاجی سنز (چپل ٹریڈرز کراچی)، لوئس ڈریفس کمپنی ( ایل ڈی سی) پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ، مقصود فلور اینڈ جنرل ملز، این اینڈ ایم فوڈز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، ایس بی آر ایس مینوفیکچرنگ اینڈ لاجسٹکس (پرائیویٹ) لمیٹڈ، ذریعہ لمیٹڈ، ذوالنورین فلور اینڈ جنرل ملز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، رائل فلور اینڈ جنرل ملز شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ان کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری سے گندم خریدیں، مگر شرط یہ رکھی گئی ہے کہ اسے سرکاری گوداموں میں ذخیرہ کیا جائے گا اور اس پر کنٹرول بھی محکمہ خوراک کا ہوگا۔ اس دوہری پالیسی کو زرعی ماہرین نے’’سرمایہ نجی، کنٹرول سرکاری‘‘کا متنازع ماڈل قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری گوداموں میں گندم کی مبینہ چوری، ملاوٹ، مٹی اور کوڑا کرکٹ کی آمیزش جیسے سنگین الزامات پہلے ہی سالہا سال سے موجود ہیں جس کے باعث نجی کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر نامزد کمپنیاں عملی طور پر خریداری کے عمل میں سست روی کا شکار ہیں جس سے مارکیٹ میں مزید بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔ ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ جب سرمایہ نجی شعبہ فراہم کرے گا مگر کنٹرول سرکاری اہلکاروں کے پاس ہوگا تو شفافیت کیسے یقینی بنائی جائے گی؟ اگر گندم ضائع یا چوری ہو گئی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اس بے یقینی کی وجہ سے کپاس کے بعد اب گندم کا کاشتکار بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاس بے یقینی کی صورتحال سے رہا ہے۔ اگر فوری طور پر شفاف، واضح اور کسان دوست پالیسی نہ اپنائی گئی تو نہ صرف کسان مالی طور پر برباد ہوگا بلکہ ملک کو آئندہ سال غذائی بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں