ملتان ( سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی نئی تعینات ہونے والی ایکٹنگ چارج وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے خزانچی کے عہدے پر اضافی چارج کا ایسا متنازع نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس نے ادارے کے اندر شفافیت، قانونی تقاضوں اور انتظامی سنجیدگی پر کئی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جاری کیے گئے حکم نامے میں سابقہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی ہم خیال اور انہی کی تعینات کردہ عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار اور ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق نے پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کو گمراہ کرتے ہوئے ان کے ٹینیور کو فیل کرنے کے لیے ڈاکٹر طاہرہ یونس کو خزانچی کا اضافی چارج صرف 15 دن کے لیے دیا گیا ہے جبکہ ان کی ذمہ داریاں بھی محدود کرتے ہوئے صرف یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی اور انویسٹمنٹ پراسیس تک محدود رکھی گئی ہیں جسے مبصرین یونیورسٹی کے مالیاتی نظام پر عدم اعتماد اور داخلی بحران کی واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی حلقوں میں سب سے زیادہ حیرت اس امر پر ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایک ایسے اہم مالیاتی منصب کے لیے محض 15 دن کا چارج کیوں دیا گیا جبکہ خزانچی وہ کلیدی عہدہ ہے جو ادارے کے مالی نظم، ادائیگیوں، بجٹ، سرمایہ کاری اور فنڈز کی نگرانی کا بنیادی مرکز ہوتا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تقرری ناگزیر تھی تو صرف دو ہفتوں پر مشتمل عارضی بندوبست کیوں کیا گیا؟ کیا انتظامیہ کو خود اپنے فیصلے پر اعتماد نہیں یا پھر پس پردہ کوئی اور انتظامی حکمت عملی کارفرما ہے؟ یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین شکل اختیار کر گیا جب سابقہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے ڈاکٹر دیبا شہوار کو عارضی رجسٹرار کا اضافی چارج دیا گیا تھا مگر اس نوٹیفکیشن میں کسی بھی قسم کا ٹائم فریم درج نہیں کیا گیا۔ اس اقدام پر پہلے ہی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے 10 دسمبر 2024 کو سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے واضح تنبیہ جاری کی تھی کہ اضافی چارج کے نوٹیفکیشن میں مدت کا تعین لازمی ہےجو تین ماہ یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ سالانہ ہونا چاہیےجیسا کہ گورنر/چانسلر کے احکامات کے تحت پہلے ہی 29 نومبر 2022 کے خط کے ذریعے آگاہ کیا جا چکا تھا۔ سرکاری مراسلے میں واضح طور پر پوچھا گیا تھا کہ اضافی چارج کی مدت نوٹیفکیشن میں کیوں درج نہیں کی گئی؟ مگر حیران کن طور پر اس تنبیہ کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ کے اندر وہی پرانا طرزِ عمل برقرار رہا اور 15 اپریل 2026 کو ڈاکٹر دیبا شہوارجو خود بغیر واضح مدت کے عارضی رجسٹرار کے طور پر کام کر رہی تھیں، نے ڈاکٹر طاہرہ یونس کو خزانچی کا اضافی چارج صرف 15 دن کے لیے دے دیا۔ یوں ایک غیر واضح اور متنازع تقرری کے حامل عہدے دار کی جانب سے ایک اور محدود المدت اور متنازع انتظامی حکم نامہ جاری ہونا ادارہ جاتی ساکھ کے لیے تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تقرری میں قانونی شق 12(3) کے بجائے شق 12(4)(a) استعمال کی گئی جس پر شدید اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ قواعد کے مطابق خزانچی جیسے اہم عہدے کے اضافی چارج کے لیے سینڈیکیٹ کے اختیارات بروئے کار لانا اور بعد ازاں سینڈیکیٹ ممبران کو باقاعدہ مطلع کرنا لازم تھا مگر اس کے برعکس 12(4)(a) کا سہارا لیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ شق عمومی طور پر ہنگامی نوعیت یا انتظامی نوعیت کے مخصوص اختیارات کے لیے استعمال ہو سکتی ہے مگر اسے بڑے مالیاتی، سرمایہ کاری اور پالیسی فیصلوں کے لیے استعمال کرنا سوالیہ امر ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ نہ تو سینڈیکیٹ ممبران میں سرکولیٹ کیا گیا اور نہ ہی پرو چانسلر کو اعتماد میں لیا گیا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین فورمز کو نظر انداز کرتے ہوئے مالیاتی اختیارات کا استعمال نہ صرف انتظامی بے ضابطگی بلکہ گورننس کے بنیادی اصولوں سے انحراف تصور کیا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے اندر یہ تاثر بھی زور پکڑ رہا ہے کہ سابقہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی تعینات کردہ عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار اور ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق کے مشورے سے یہ تمام قانونی بے ضابطگیاں اختیار کی گئیں تاکہ اہم مالیاتی معاملات محدود حلقے میں رکھے جا سکیں۔ ٹیچرز یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر سب کچھ قواعد کے مطابق ہے تو پھر سینڈیکیٹ ممبران کو کم از کم باضابطہ اطلاع کیوں نہیں دی گئی؟ دوسری جانب پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی جانب سے چارج سنبھالتے ہی ایک مثبت اقدام بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ماضی کا ٹریک ریکارڈ کلین رکھنے والے ایماندار افسر سعید طاہر کو ڈپٹی رجسٹرار کا چارج دیاجسے یونیورسٹی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر جاری انتظامی فیصلوں نے ادارے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں فوری اصلاحات اور شفاف فیصلوں کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔







