ایندھن مہنگا، بجلی بحران شدید، پیک آورز میں سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ، جلد دیڑھ روپے یونٹ اضافہ

ملتان(وقائع نگار،نمائندگان قوم)ایندھن مہنگا ہونےکے باعث بجلی بحران شدت اختیار کر گیا، حکومت نے قیمتوں میں اضافہ روکنےکیلئےپیک آورزمیں سوا2گھنٹےلوڈشیڈنگ کااعلان کردیا ،جلدڈیڑھ روپے یونٹ اضافہ متوقع ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق شام 5 سے رات 1 بجے تک روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جائے گی، مہنگے ایندھن کے کم استعمال سے بجلی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے گا۔ جولائی تا فروری بجلی صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف دیاگیا، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی 71 پیسے سستی ہوئی،بروقت اقدامات نہکئے جاتے تو قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا تھا۔وفاقی اورصوبائی سطح پرکمرشل مارکیٹس کی بروقت بندش سے بجلی کی طلب کم کی جاسکتی ہے۔میلسی،صادق آباد،جتوئی،کچاکھوہ ،چنی گوٹھ،اوچ شریف،چوک سرور شہید،لیہ،شادن لُنڈ سمیت جنوبی پنجاب میں گھنٹوں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سےنظام زندگی مفلوج ،عوام کاپارہ ہائی ہوگیا۔تفصیل کےمطابق پاور ڈویژن نے پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے کی بجلی لوڈشیڈنگ کا اعلان کر دیا۔ترجمان پاور ڈویژن کی جانب سے پیک آورز ریلیف سٹریٹجی سے متعلق بیان میں کہا گیا ہے کہ جولائی تا فروری بجلی صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی 71 پیسے سستی ہوئی ہے، کم لاگت ذرائع اور پیداواری صلاحیت کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ترسیلی و انتظامی سطح پر بہتری لا کر نقصانات کو کم کیا، عالمی سطح پر سخت حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم ہے۔ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت بھی ہم ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرسکنے کے قابل ہیں، حکومت کو پیک آورز میں کھپت میں اضافے کا سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے، مہنگے ایندھن پر انحصار سے بجلی کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔پاور ڈویژن نے پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شام 5 سے رات 1 بجے تک روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جائے گی، اس اقدام سے مہنگے ایندھن کے کم استعمال سے بجلی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے گا۔اعلامیے کے مطابق وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر مانیٹرنگ سے صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، وزیراعظم نے کسی بھی صورت بجلی کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ نہ ہونے کا ٹاسک دیا ہے، وزیراعظم کی ہدایات پر 80 ایم ایم سی ایف ایف ڈی مقامی گیس پاورپلانٹس کومہیا کردی گئی ہے۔پاور ڈویژن کا کہنا ہے اس سے بجلی کی قیمت میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے اور اضافی لوڈ مینجمنٹ کو روک دیا گیا ہے، لوڈ مینجمنٹ کا مقصد بجلی کی قیمت میں تقریباً 3 روپے فی یونٹ ممکنہ اضافہ روکنا ہے، فرنس آئل کااستعمال محدود کرنے کے باوجود تقریباً 1.5 روپےفی یونٹ کے اضافے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا تھا۔ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے ڈسکوز کو بجلی بند کرنے کے اوقات کو صارفین سے شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، حکومت ہر وہ اقدام کرے گی جس سے عوام کو ریلیف ملے، وفاقی اورصوبائی سطح پرکمرشل مارکیٹس کی بروقت بندش سے بجلی کی طلب کم کی جاسکتی ہے، طلب میِں کمی لا کر بجلی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔میلسی سےنمائندہ قوم کےمطابق شہر اور گردونواح میں غیر اعلانیہ اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ شدید گرمی کے باعث جہاں بچے، بزرگ اور خواتین نڈھال ہو کر رہ گئے ہیں، وہیں بجلی کے اچانک بند ہونے اور وولٹیج کے اتار چڑھاؤ سے شہریوں کے لاکھوں روپے مالیت کے برقی آلات بھی جل گئے ہیں۔مکینوں کا کہنا ہے کہ کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، جس کے باعث نہ صرف گھریلو زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔صادق آباد سےنامہ نگار کےمطابق صادق آباد سمیت ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا جن بوتل سے باہر آگیا۔بجلی کی غیراعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ گرمی کی حالیہ لہر اور مچھروں کی بہتات نے عوام کو دوہری اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔بجلی کی بندش اور مچھروں کی بہتات کے باعث بوڑھے، بچے اور مریض رات بھر جاگنے پر مجبور ہیں، جس سے شہریوں میں ذہنی تناؤ بڑھنے لگاایک طرف گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہے۔ جناح فیڈر،لغاری فیڈر،اجمل باغ فیڈر،منٹھارفیڈر،سنجرپورفیڈر،ایک گھنٹہ بجلی آتی ہے ایک گھنٹہ بجلی بند شدید لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔جتوئی سےنامہ نگاراورکرائم رپورٹرکےمطابق جتوئی شہر و گردو نواح میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنادیں۔میپکو سب ڈویژن جتوئی کی جانب سے خصوصاً رات کے وقت کی جانے والی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث شہری پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، اوپر سے رات بھر بجلی کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پنکھے اور کولر بند رہتے ہیں، جس کے باعث مچھروں کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر چھوٹے بچے، بزرگ افراد، خواتین اور بیمار مریض اس اذیت سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے بچے اور بزرگ ملیریا اور دیگر وبائی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔کچاکھوہ سے نمائندہ خصوصی کےمطابق بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ گھنٹوں بجلی کی بندش سے معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ شدید گرمی میں بجلی کی عدم دستیابی نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے جبکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔دوسری جانب کاروباری طبقہ بھی سخت مشکلات کا شکار ہے۔ چنی گوٹھ سےنامہ نگار کےمطابق چنی گوٹھ اور اس کے گردونواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے جس سے شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔اوچ شریف سےجنرل رپورٹر کےمطابق اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی آڑ میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل بندشوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی۔ ہر آدھے گھنٹے بعد دو، دو گھنٹے بجلی غائب ہونے کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہو گئے جبکہ کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واپڈا اور میپکو حکام مبینہ طور پر یونٹس پورے کرنے اور لائن لاسز کو کم ظاہر کرنے کے لیے جان بوجھ کر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سہارا لے رہے ہیں جس کا سارا بوجھ عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔ متاثرین کے مطابق بجلی کی غیر یقینی اور بار بار بندش نے گھریلو نظام کو درہم برہم کر دیا ہے، پانی کی قلت سمیت متعدد مسائل نے سر اٹھا لیا ہے جبکہ چھوٹے دکاندار اور مزدور طبقہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔چوک سرور شہید سے تحصیل رپورٹر کےمطابق تحصیل چوک سرور شہید اور گردونواح میں بجلی کی بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ میپکو سب ڈویژن چوک سرور شہید کی جانب سے 12،12گھنٹے سے زائد کی بندش سے معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ رات کے اوقات میں ہر ایک گھنٹے کے بعد بجلی کی طویل بندش نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں مچھروں کی بھرمار ہو چکی ہے جس کے باعث بچے، خواتین اور بزرگ رات بھر جاگنے پر مجبور ہیں۔ں تاجر برادری کے کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں وہیں پانی کی قلت نے بھی سر اٹھا لیا ہے۔لیہ سےسپیشل رپورٹر کےمطابق،لیہ ،کروڑ لعل عیسن میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے عوام کی زندگی مفلوج ہوکررہ گئی۔ میٹرک امتحانات کے دوران لوڈ شیڈنگ سےطلبہ کی تیاری متاثر ہورہی ہے۔شادن لُنڈ سے سپیشل رپورٹر کےمطابق شادن لُنڈ شہر علاقوں میں بجلی اور گیس کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ شادن لُنڈ کے گردونواح کے قصبوں جن میں قصبہ کالا، احمدانی ، پُل قمبر، کریم والا ، دری ڈھولےبوالی کالا کالونی اور شاہ صدر دین سمیت دیگر علاقوں میں بجلی کی طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ عوام کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔شہریوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر پانی و بجلی سردار اویس احمد خان لغاری اور وزیر پٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے موثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں