اقراری بولا گینگ کی دہشت، نقل مکانی شروع، امان اللہ کی ٹانگ کٹ گئی

بہاولپور (کرائم سیل)لیہ اور کوٹ ادو کے سنگم پر واقع ( پہاڑ پور) اور احسان پور کو اپنی بدمعاشی کا مرکز بنا کر پولیس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈیرہ غازی خان، تونسہ اور کوٹ ادو سمیت دیگر علاقوں میں اپنی دھاک
بٹھانے والے اقراری بولا کے خوف و دہشت سے مقامی مکین نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ عید سے دو روز قبل ہونے والے ظالمانہ حملے میں زخمی ہونے والے امان اللہ عرف ببلی مشہوری کی نشتر ہسپتال ملتان میں ایک ٹانگ کاٹ دی گئی۔ دو ہفتے سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود مقامی پولیس تھانہ دائرہ دین پناہ اعانت میں شامل دو ملزمان کے علاوہ نہ تو کسی مرکزی ملزم کو گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی انہیں گرفتار کرنے کی مؤثر کوشش کی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب بھی اقراری بولا گینگ میں شامل جاوید، ابی، ہاشم، ساون وغیرہ اسلحہ اٹھا کر موٹرسائیکلوں پر ان دونوں علاقوں میں سرعام گھومتے پھرتے ہیں اور لوگوں سے بھتہ طلب کرتے ہیں۔ جو لوگ انہیں بھتہ نہیں دیتے، انہیں یا ان کے عزیز و اقارب اور ساتھ کام کرنے والے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھتہ نہ دینے کی پاداش میں احسان پور کے رہائشی ظفر اقبال قلفی والے کو زندگی بھر کے لیے معذور کر دیا گیاجبکہ سید عاقب نامی نوجوان کو قتل کر دیا گیا۔حالیہ واقعے میں امان اللہ کو عید سے دو روز قبل راولپنڈی سے واپس آتے ہوئے احسان پور پھاٹک کے قریب نشانہ بنایا گیا، جو اس وقت نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی ہے جبکہ دوسری ٹانگ کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان اپنے دیگر عزیز و اقارب کی جانیں بچانے کے لیے اب خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مقامی پولیس اس گینگ کے خلاف کسی قسم کی مؤثر کارروائی نہیں کر رہی۔ 13 دسمبر کو لیہ میں سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں اہلکاروں کو زخمی کرنے والے ان بدمعاشوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ اس حوالے سے تمام معلومات ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے پی آر او کو بھی ارسال کی گئیں اور انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ ڈی ایس پی کوٹ ادو کسی قسم کا موقف دینے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ ایس ایچ او متاثرین کو صرف اللہ سے امید رکھنے کا کہہ رہے ہیں اور عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ایڈیشنل آئی جی نے ڈی پی او کوٹ ادو کو ہدایت جاری کریں کہ ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کی جائےمگر دو روز گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اقراری بولا اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے لیے کون سی طاقت میدان میں آتی ہے تاکہ کوٹ ادو اور گرد و نواح کے رہائشی اس خوف و دہشت کے ماحول سے نجات حاصل کر سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں