ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہی جھٹکے میں ہونے والے بڑے اضافے نے نہ صرف عوام کو شدید معاشی دباؤ میں دھکیل دیا بلکہ اس فیصلے کے پیچھے مبینہ طور پر اربوں روپے کے ’’انوینٹری گیم‘‘ کا انکشاف بھی سامنے آ گیا ہےجس نے حکومتی پالیسی سازی اور تیل کمپنیوں کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ قانون کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ کم از کم 20 دن کا پٹرولیم سٹاک اپنے پاس رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ملک میں ایندھن کی قلت پیدا نہ ہو۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش تقریباً 1.6 ملین میٹرک ٹن ہے جو ملک کی تقریباً 27 دن کی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ جس روز حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لٹر تک اضافہ کیا اس وقت ملک میں آئل کمپنیوں کے پاس تقریباً 1.4 ملین میٹرک ٹن پر مشتمل 23 دن کا پٹرولیم مصنوعات کا سٹاک پہلے ہی سے موجود تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیمت بڑھنے سے پہلے بڑی مقدار میں سستا تیل پہلے ہی ذخیرہ کیا جا چکا تھا۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 11 ہزار کے قریب پٹرول پمپ کام کر رہے ہیں جبکہ ایک پٹرول پمپ میں اوسطاً ایک لاکھ لٹر تک پٹرول ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اس طرح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کا بڑا ذخیرہ پہلے ہی موجود تھاجس پر قیمتوں میں اچانک اضافے سے آئل کمپنیوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا گیا۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹنگ کی اصطلاح میں اسے’’انوینٹری گیم‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی جب کسی کمپنی کے پاس پہلے سے بڑی مقدار میں کم قیمت پر خریدا گیا سٹاک موجود ہو اور حکومت اچانک قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دے تو کمپنیوں کو بغیر کسی اضافی لاگت کے اربوں روپے کا فائدہ ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق صرف اس ایک فیصلے سے آئل کمپنیوں کو مجموعی طور پر تقریباً 110 ارب روپے کا غیر معمولی فائدہ حاصل ہوا۔ ماضی میں جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک یا دو روپے کا معمولی اضافہ کیا جاتا تھا تو بیوروکریسی اور آئل کمپنیوں کے درمیان مبینہ طور پر پس پردہ معاملات طے ہو جاتے تھے اور کمیشن یا کک بیکس کی باتیں گردش کرتی رہتی تھیں۔ تاہم اس مرتبہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ سنگین بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے میں مبینہ طور پر تقریباً 60 فیصد تک کک بیک کی باتیں زیر گردش ہیں۔ یہ بھاری کمیشن کس نے لیا۔کن ہاتھوں میں گیا اور اس کے پیچھے کون سے طاقتور کردار موجود ہیں۔ اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آ سکا۔ معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار اتنی بڑی مقدار میں قیمتوں میں اضافہ کر کے ایک ہی رات میں عوام کی جیبوں سے اتنی بڑی رقم نکالی گئی ہے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی معاشی ضرورت تھا یا پھر چند بااثر حلقوں کے مفادات کا کھیل؟ حقیقت کیا ہے، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ پٹرولیم قیمتوں کے اس اچانک اضافے نے نہ صرف عوامی اعتماد کو متزلزل کیا ہے بلکہ حکومتی فیصلے کی شفافیت پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔






