بہاولپور: مبینہ جعلی ادائیگیاں، فنڈز کا غلط استعمال، ای ٹینڈرز بھی تنازع کا شکار

بہاولپور (بیورو رپورٹ) بلڈنگ ڈویژن نمبر 1 بہاولپور میں ایگزیکٹو انجینئر عمران نزیر کی سرپرستی میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، جعلی ادائیگیوں اور کروڑوں روپے کی بندر بانٹ کے الزامات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے کہ نئے جاری ہونے والے ای ٹینڈرنگ نوٹس پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک رجسٹرڈ ٹھیکیدار نے سپرنٹنڈنٹ انجینئر سرکل بہاولپور کو تحریری درخواست دے کر مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسے مبینہ طور پر ٹینڈرنگ کے عمل میں حصہ لینے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔درخواست گزار نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) سے رجسٹرڈ کنٹریکٹر ہے اور متعلقہ کیٹیگری کا لائسنس رکھتا ہے، تاہم مبینہ طور پر انہیں مختلف بہانوں سے ٹینڈرنگ کے عمل سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے شفاف مسابقتی عمل کو متاثر کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل بھی بلڈنگ ڈویژن نمبر 1 بہاولپور کے حوالے سے یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ مختلف ترقیاتی و مرمتی سکیموں میں مبینہ طور پر جعلی ورک آرڈرز، فرضی ادائیگیوں اور پسندیدہ ٹھیکیداروں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں اینٹی کرپشن میں درخواست بھی انکوائری کے لیے دے دی گئی ہے جن میں کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے۔اب تازہ 10جون کو جاری ہونے والے ای ٹینڈرنگ نوٹس میں متعدد مرمتی اور ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں، تاہم ایک مقامی ٹھیکیدار کی جانب سے سامنے آنے والی درخواست نے پورے عمل کی شفافیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر تمام رجسٹرڈ اور اہل ٹھیکیداروں کو مساوی مواقع فراہم نہ کیے گئے تو یہ سرکاری خریداری کے اصولوں اور شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔شہری حلقوں، تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد اور ٹھیکیدار برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ بلڈنگ ڈویژن نمبر 1 بہاولپور میں جاری تمام ترقیاتی سکیموں، ٹینڈرنگ کے عمل، ورک آرڈرز اور ادائیگیوں کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ دار افسران اور متعلقہ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں